پارلیمان کئی ماہ تک بند کیوں رہی؟

فروری 2026 میں امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور اس کے بعد پیدا ہونے والی جنگی صورتحال کے باعث ایرانی پارلیمان کے عوامی (اوپن) اجلاس معطل کر دیے گئے تھے۔

ایرانی حکومت کا مؤقف تھا کہ غیر معمولی سکیورٹی حالات کے باعث ارکان کو ایک جگہ جمع کرنا مناسب نہیں، جبکہ بعض ارکان نے مسلسل چار ماہ تک پارلیمان بند رکھنے پر اعتراض بھی کیا اور اسے آئینی عمل کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔

کئی ماہ بعد پارلیمان کیوں بحال ہوئی؟

ایرانی پارلیمان کا آخری باقاعدہ عوامی اجلاس فروری 2026 کے وسط میں ہوا تھا۔ اس کے بعد امریکا اور اسرائیل کے حملوں، اعلیٰ ایرانی حکام کی ہلاکتوں اور بڑھتے ہوئے سکیورٹی خدشات کے باعث پارلیمان کے کھلے اجلاس معطل کر دیے گئے تھے۔

اس دوران صرف چند پارلیمانی کمیٹیوں کے محدود اجلاس ہوتے رہے، جب کہ مکمل ایوان کا اجلاس نہیں بلایا گیا۔ مئی میں پہلی بار ایک آن لائن اجلاس ضرور ہوا، مگر وہ بھی ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اور صرف مہنگائی، منڈیوں کی صورتحال اور جنگ کے بعد کے معاشی مسائل پر محدود رہا۔

اب اجلاس کیوں بلایا گیا؟

حالیہ اجلاس کئی حوالوں سے غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔ یہ پہلا باقاعدہ اجلاس ہے جو کئی ماہ بعد تہران کے بہارستان پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں 250 سے زائد ارکان شریک ہوئے جب کہ اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو اس وقت امریکا کے ساتھ مذاکراتی عمل میں بھی کردار ادا کر رہے ہیں، اجلاس میں موجود نہیں تھے۔

ایرانی پارلیمان کی خبر رساں ایجنسی خانہ ملت کے مطابق نائب اسپیکر حامد رضا حاجی بابائی کی صدارت میں عوامی اجلاس منعقد کیا گیا، جس میں 250 سے زائد ارکان شریک ہوئے۔

بی بی سی فارسی کے مطابق اجلاس میں ارکان نے سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای، جنگ میں مارے جانے والے فوجی کمانڈروں اور دیگر شخصیات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے قاتلوں سے انتقام کے حق میں نعرے لگائے۔

اجلاس سے قبل ارکان نے یادگاری گیلری کا بھی دورہ کیا جہاں جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجیوں، سیاسی شخصیات اور بچوں کی تصاویر آویزاں تھیں۔

ایران میں پارلیمان عام طور پر کب ہوتی ہے؟

ایرانی پارلیمان سال بھر مختلف ادوار (سیشنز) میں باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرتی ہے۔ معمول کے حالات میں کھلے اجلاس ہفتے میں متعدد دن ہوتے ہیں اور قانون سازی، بجٹ، حکومتی نگرانی اور اہم قومی معاملات پر بحث کی جاتی ہے۔

اس بار کئی ماہ تک اجلاس نہ ہونا معمول کی پارلیمانی روایت سے ہٹ کر تھا، جس کی بنیادی وجہ جنگی حالات اور سکیورٹی خدشات بتائی گئی۔

اس اجلاس میں کیا غیر معمولی باتیں دیکھنے میں آئیں؟

اس اجلاس میں کئی ایسی چیزیں سامنے آئیں جنہوں نے مبصرین کی توجہ حاصل کی۔ نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کی تصویر پہلی مرتبہ پارلیمان میں نمایاں طور پر نصب کی گئی۔ پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اجلاس میں موجود نہیں تھے، جسے سیاسی حلقوں میں خاص اہمیت دی گئی۔

پارلیمان نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ آئندہ جنگ یا ہنگامی حالات میں پارلیمانی اجلاس صرف بہارستان کی عمارت تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ ضرورت پڑنے پر کسی بھی محفوظ مقام پر منعقد کیے جا سکیں گے۔

اس اجلاس کی اہمیت کیا ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اس اجلاس کے ذریعے ایرانی قیادت تین اہم پیغامات دینا چاہتی ہے کہ ریاستی ادارے معمول کی طرف واپس آ رہے ہیں۔ جنگ کے بعد معاشی اور داخلی مسائل پر قانون سازی کی جائے گی۔ آبنائے ہرمز، قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی جیسے حساس معاملات پر پارلیمانی حمایت حاصل کی جائے گی۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

اگر سکیورٹی صورتحال بہتر رہی تو پارلیمان کے باقاعدہ اجلاس دوبارہ معمول کے مطابق جاری رہنے کا امکان ہے۔ تاہم اگر خطے میں کشیدگی دوبارہ بڑھی تو ایران ایک مرتبہ پھر سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اجلاس محدود یا آن لائن کرنے کا فیصلہ بھی کر سکتا ہے۔

دوسری جانب جنگ کے بعد معیشت، مہنگائی، پابندیوں اور قومی سلامتی سے متعلق قانون سازی آنے والے اجلاسوں کا مرکزی موضوع رہنے کی توقع ہے۔