انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ایک 10 سالہ منصوبہ ہے اور وہ اپنی ذمہ داریاں جاری رکھیں گے۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ بلدیاتی انتخابات میں حکمران لیبر پارٹی کو شدید سیاسی دھچکے کا سامنا کرنا پڑا، جو کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کسی بھی برسرِاقتدار جماعت کی بدترین مقامی انتخابی کارکردگی قرار دیا ہے۔
برطانوی اخبار آبزرور کو انٹرویو دیتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ وہ نہ صرف اگلے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی قیادت کریں گے بلکہ دوسری مدتِ حکومت مکمل کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جولائی 2024 میں عوام نے انہیں جو مینڈیٹ دیا، وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، برطانیہ اس وقت سیاسی استحکام کا متحمل نہیں ہوسکتا اور قیادت کی تبدیلی ملک کو ایک نئے بحران میں دھکیل سکتی ہے۔
وزیراعظم نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج ان کی حکومت کے لیے “ریفرنڈم” ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کے حل، معیشت کی بحالی، مہنگائی میں کمی اور سرکاری اداروں کی اصلاحات پر بھرپور توجہ دے رہی ہے۔
اگر آنے والے دنوں میں اسٹارمر کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تو گزشتہ ایک دہائی کے دوران برطانیہ کو ساتواں وزیراعظم مل جائے گا، جو ملکی سیاست میں غیرمعمولی عدم استحکام کی علامت سمجھا جائے گا۔
بلدیاتی انتخابات میں شکست کے باوجود کابینہ کے کئی اہم وزراء اب بھی وزیراعظم کے دفاع میں سامنے آرہے ہیں۔ برطانوی وزیرِتعلیم بریجٹ فلپسن نے کہا ہے کہ کیئر اسٹارمر مشکل حالات میں فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ پیر کو اپنی اہم تقریر میں ملک کے لیے نئی پالیسی سمت پیش کریں گے۔
تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ ووٹرز نے لیبر پارٹی کو واضح پیغام دیا ہے اور پارٹی کو اپنی حکمتِ عملی اور عوامی رابطے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
انتخابی نتائج کے بعد نہ صرف اپوزیشن بلکہ خود لیبر پارٹی کے اندر بھی وزیراعظم کی قیادت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ پارٹی کے متعدد ارکانِ پارلیمنٹ نے کھل کر ناراضی کا اظہار کیا، جبکہ بعض سینئر رہنماؤں نے قیادت کی تبدیلی کی آواز بھی بلند کردی ہے۔
دوسری طرف پارٹی کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے بعض رہنماؤں نے فوری قیادت کی تبدیلی کے مطالبے کو قبل از وقت قرار دیا ہے۔ سابق لیبر رہنما جیریمی کوربن کے قریبی ساتھی اور معاشی امور کے سابق سربراہ جان میکڈونل نے کہا ہے کہ بعض حلقے موجودہ صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جلد بازی میں قیادت کی جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں، جو پارٹی کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
اسی طرح رکنِ پارلیمنٹ ایان بائرن نے خبردار کیا کہ اگر قیادت کی تبدیلی کا عمل جلد بازی میں شروع کیا گیا تو اس سے پارٹی مزید تقسیم کا شکار ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی پابندیوں پر عمل کرنے والے ممالک کو آبنائے ہرمز میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، ایران
ادھر اینڈی برن ہیم کو بھی لیبر پارٹی کے ممکنہ متبادل رہنما کے طور پر دیکھا جارہا ہے، تاہم وہ اس وقت رکنِ پارلیمنٹ نہیں ہیں، جس کے باعث اگر فوری قیادت کا انتخاب ہوا تو وہ عملی طور پر اس دوڑ میں شامل نہیں ہوسکیں گے
واضح رہے کہ عوامی حمایت رکھنے والی جماعت ریفارم یو کے نے بلدیاتی انتخابات میں غیر متوقع کامیابیاں حاصل کرکے برطانوی سیاست میں نئی ہلچل پیدا کردی ہے۔ ریفارم یو کے کی بڑھتی مقبولیت نے لیبر پارٹی کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
ادھر لیبر پارٹی کی سابق وزیر کیتھرین ویسٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کابینہ نے فوری طور پر وزیراعظم کی کارکردگی پر غور نہ کیا تو وہ پارٹی اراکین کی حمایت حاصل کرکے باضابطہ طور پر قیادت کے انتخاب کا مطالبہ کرسکتی ہیں۔
پارٹی قوانین کے مطابق لیبر قیادت کو چیلنج کرنے کے لیے پارلیمانی پارٹی کے کم از کم 20 فیصد ارکان، یعنی 81 اراکینِ پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہوتی ہے۔ ذرائع کے مطابق اب تک تقریباً 30 لیبر اراکین کھل کر اسٹارمر کی قیادت پر تنقید کرچکے ہیں، جبکہ کئی دیگر ارکان خاموش مگر بے چینی کا شکار ہیں۔
یاد رہےکہ آنے والے چند ہفتے لیبر پارٹی اور وزیراعظم کیئر اسٹارمر دونوں کے سیاسی مستقبل کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ پارٹی کے اندر بڑھتی بے چینی اگر قابو میں نہ آئی تو برطانیہ ایک نئی سیاسی کشمکش کی طرف بڑھ سکتا ہے۔







