برطانوی اخبار ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کو اپنی کابینہ کے اہم اراکین کی جانب سے شدید تحفظات کا سامنا ہے، جس کے باعث حکومتی معاملات میں تعطل پیدا ہونے کا تاثر مل رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومتی حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں فیصلہ سازی کا عمل سست پڑ چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ بحران اس وقت شدت اختیار کر گیا جب وزیراعظم نے سینئر سرکاری افسر سر اولی رابنز کو ایک حساس معاملے پر عہدے سے ہٹا دیا۔ اس فیصلے کو نہ صرف بیوروکریسی بلکہ کابینہ کے بعض اراکین کی جانب سے بھی ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیر خزانہ ریچل ریوز سمیت کئی اہم وزرا وزیراعظم کے طرزِ حکمرانی سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں۔ کابینہ اجلاسوں میں بھی اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں، جہاں بعض وزرا نے حکومت کے اندر تقسیم اور عدم اعتماد کی فضا پیدا ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کابینہ کے دیگر نمایاں اراکین، جن میں شبانہ محمود، ویس اسٹریٹنگ اور ڈیوڈ لیمی شامل ہیں، نے بھی وزیراعظم کی پالیسیوں اور فیصلوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ حکومت کے اندر ہم آہنگی کی کمی پالیسی سازی کو متاثر کر رہی ہے۔

سیاسی حلقوں میں یہ بھی چہ مگوئیاں جاری ہیں کہ اگر صورتحال یہی رہی تو کیئر اسٹارمر کی جگہ متبادل قیادت سامنے آ سکتی ہے۔ ممکنہ ناموں میں ویس اسٹریٹنگ اور انجیلا رینر کا ذکر کیا جا رہا ہے، جنہیں پارٹی کے اندر اثر و رسوخ حاصل ہے۔

مزید پڑھیں: ایرانی حکام توقع سے زیادہ مضبوط، امریکا کے پاس جنگ سے نکلنے کی واضح حکمتِ عملی دکھائی نہیں دیتی: جرمن چانسلر

ادھر لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ جوناتھن بریش نے کھل کر کہا ہے کہ اب سوال وزیراعظم کے جانے یا نہ جانے کا نہیں بلکہ ان کے استعفے کے وقت کا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر بے چینی کس حد تک بڑھ چکی ہے۔

دوسری جانب سابق اعلیٰ سرکاری افسران اور سفارتی شخصیات نے بھی سر اولی رابنز کی برطرفی پر شدید ردعمل دیا ہے اور ان کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن جماعت کی سربراہ کیمی بیڈنوک نے بھی اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھاتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ  آنے والے بلدیاتی انتخابات لیبر پارٹی کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر پارٹی کو ان انتخابات میں نمایاں نقصان اٹھانا پڑا تو وزیراعظم کی پوزیشن مزید کمزور ہو سکتی ہے، اور قیادت کی تبدیلی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

یاد رہے  کہ موجودہ صورتحال نہ صرف حکومت کے استحکام بلکہ برطانیہ کی مجموعی سیاسی سمت پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ آنے والے دن اس بحران کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوں گے۔