میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ کیئر اسٹارمر کو ذاتی طور پر ایک اچھا اور خوش اخلاق شخص سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا جن سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں مشکلات پیش آئیں، بین الاقوامی معاملات خصوصاً ایران سے متعلق صورتحال اور نیٹو کے حوالے سے پالیسیوں پر برطانیہ نے وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی امریکا توقع کر رہا تھا۔
امریکی صدر نے کہا کہ اگرچہ ان کے اور کیئر اسٹارمر کے درمیان ذاتی تعلقات خوشگوار رہے، لیکن بعض اہم خارجہ پالیسی معاملات پر دونوں ممالک کے مؤقف میں واضح فرق موجود تھا، عالمی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے تناظر میں اتحادی ممالک کے درمیان مکمل ہم آہنگی ضروری ہوتی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی گفتگو میں برطانیہ کو درپیش داخلی مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ توانائی کا بحران، بڑھتی ہوئی امیگریشن اور جرائم کی صورتحال کیئر اسٹارمر حکومت کے لیے بڑے چیلنجز ثابت ہوئے، ان شعبوں میں اختیار کی گئی بعض پالیسیوں نے حکومت کی مقبولیت اور کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کے شعبے میں کیے گئے فیصلوں اور غیر قانونی امیگریشن سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر عوامی سطح پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جس سے حکومت کو سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکی صدر کے مطابق ان مسائل نے بالآخر کیئر اسٹارمر کی سیاسی پوزیشن کو کمزور کیا۔
اس موقع پر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیئر اسٹارمر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے مستقبل کے لیے خیرسگالی کے جذبات رکھتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ آنے والے دنوں میں بھی عوامی خدمت کا سفر جاری رکھیں گے۔
مزید پڑھیں: برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا مستعفی ہونے کا اعلان
دوسری جانب برطانوی سیاست میں کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد نئی سیاسی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق ان کے استعفے کے بعد برطانیہ میں قیادت کی تبدیلی، حکومتی پالیسیوں اور مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی پر مختلف حلقوں میں مشاورت جاری ہے۔
یاد رہے کہ کیئر اسٹارمر نے گزشتہ روز وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیا تھا، جس کے بعد برطانوی سیاسی منظرنامے میں اہم تبدیلیوں کے امکانات پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔ آنے والے ہفتوں میں برطانیہ کی داخلی اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے نئی سمت کا تعین اہم موضوع ہوگا۔







