اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ لبنان کے صدر جوزف عون اور اسرائیل کے وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ نہایت مثبت اور تعمیری گفتگو ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اپنے ممالک کے درمیان امن کے قیام کے لیے باضابطہ طور پر 10 روزہ جنگ بندی کا آغاز کیا جائے گا، جو شام 5 بجے سے نافذ ہوگی۔

امریکی صدر نے بتایا کہ منگل کو دونوں ممالک نے واشنگٹن ڈی سی میں 34 سال بعد پہلی مرتبہ ملاقات کی، جس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔


ٹرمپ نے کہا کہ نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کو ہدایت دی ہے کہ وہ اسرائیل اور لبنان کے ساتھ مل کر پائیدار امن کے قیام کے لیے کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں 9 جنگیں رکوانا میرے لیے اعزاز رہا ہے اور یہ میری دسویں کامیابی ہوگی۔

ٹروتھ سوشل پر جاری کردہ اپنے ایک اور بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو اور لبنان کے صدر جوزف عون کو وائٹ ہاؤس میں مدعو کیا جائے گا، جہاں امن مذاکرات کا آغاز کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں فریق امن چاہتے ہیں، یقین ہے کہ یہ عمل جلد مثبت نتیجے تک پہنچے گا۔ یہ پہلی بار ہوگا کہ 1983 کے بعد اسرائیل اور لبنان کے درمیان اس سطح پر سنجیدہ مذاکرات ہوں گے۔