حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ہونے والے مذاکرات بے سود اور لبنان کے لیے توہین آمیز تھے، جنہیں لبنانی عوام کے بڑے طبقے نے بھی مسترد کر دیا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل اور لبنان نے حال ہی میں ایک نیا جنگ بندی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت جنوبی لبنان میں خصوصی سیکیورٹی زونز قائم کیے جانے تھے جہاں حزب اللہ کے جنگجوؤں کی موجودگی پر پابندی عائد کی جانی تھی، جبکہ تنظیم کو اسرائیل پر حملے روکنے کا بھی کہا گیا تھا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور حزب اللہ سے بات چیت کی ہے اور صورتحال میں پیش رفت ہو رہی ہے، لبنان میں امن کا قیام خوش آئند ہوگا کیونکہ یہ ملک کئی برسوں سے تنازعات کا شکار ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے مجوزہ جنگ بندی کو اسرائیل کے مقاصد کی تکمیل قرار دیتے ہوئے کہا کہ تنظیم نہ تو ہتھیار ڈالے گی اور نہ ہی مزاحمت ترک کرے گی۔

بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ، جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے، میں بھی شہریوں نے معاہدے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ مقامی دکانداروں کا کہنا ہے کہ یکطرفہ جنگ بندی ممکن نہیں، اگر اسرائیلی حملے جاری رہیں تو ایسے معاہدے کو امن نہیں بلکہ ہتھیار ڈالنا کہا جائے گا۔

معاہدے کے مطابق اسرائیلی سرحد اور دریائے لیتانی کے درمیان واقع علاقے سے حزب اللہ کے جنگجوؤں کے انخلا اور لبنانی فوج کی مکمل عملداری قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاہم معاہدے میں سیکیورٹی زونز کے واضح خدوخال بیان نہیں کیے گئے۔

ادھر اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج فی الحال جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں اور حملے جاری رکھے گی تاکہ علاقے میں موجود "دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے" کو ختم کیا جا سکے۔

لبنانی میڈیا کے مطابق جمعرات کو جنوبی لبنان اور وادی بقاع میں متعدد اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے، جن میں کم از کم 13 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔

اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل (UNIFIL) نے بھی تصدیق کی ہے کہ جنوبی لبنان میں مارٹر گولے گرنے سے اس کا ایک اہلکار ہلاک ہو گیا۔ اسرائیلی فوج نے اس حملے کا الزام حزب اللہ پر عائد کیا ہے، تاہم تنظیم نے تاحال اس حوالے سے کوئی ردعمل نہیں دیا۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں کارروائیوں کے دوران اس کا ایک فوجی افسر بھی ہلاک ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ لبنان میں جاری تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا تھا جب حزب اللہ نے اسرائیلی کارروائیوں کے ردعمل میں راکٹ حملے کیے تھے، جس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں وسیع فضائی اور زمینی کارروائیاں شروع کر دیں۔

لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 3 ہزار 526 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ اقوام متحدہ کے مطابق 10 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔