برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق لبنانی فوج نے بتایا ہے کہ جنرل روڈولف ہیکل، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔
خبر ایجنسی کے مطابق لبنانی فوج کی جانب سے تاحال دورے کے دورانیے یا اس کے تفصیلی ایجنڈے کے بارے میں کوئی باضابطہ معلومات جاری نہیں کی گئی ہیں۔
لبنانی آرمی چیف کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کو مستقل بنیادوں پر برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ لبنان کو بھی اسرائیلی حملوں کا سامنا ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی خبر ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ دورہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری وسیع تر مذاکرات اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے، جب کہ لبنان ان مذاکرات میں ایک اہم فریق کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ امریکا کے ساتھ علاقائی جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والے کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
Lebanese army chief leaves for Pakistan at invitation of counterpart https://t.co/M4gL41hGoi https://t.co/M4gL41hGoi
— Reuters (@Reuters) June 6, 2026
تاہم گزشتہ روز امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں لبنانی صدر جوزف عون نے کہا تھا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات میں لبنان کو سودے بازی کے لیے استعمال کر رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔
جوزف عون نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ تمہارا نہیں، ہمارا ملک ہے اور اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔ ایران کو لبنان کے داخلی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں اور یہ بات ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو بھی سمجھنی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کو یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور بات چیت کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔







