لبنان کی سرکاری نیشنل نیوز ایجنسی (این این اے) نے بتایا کہ صفد البتخ نامی قصبے میں ایک فضائی حملے کے نتیجے میں تین افراد شہیدہوئے۔
این این اے کے مطابق ٹائر کے قریب ایک اور فضائی حملے میں مزید تین افراد شہید ہوئے، جن میں دو شامی اور ایک مصری شہری شامل ہے۔ اسی علاقے میں ایک موٹر سائیکل کو ڈرون نے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اور شخص جان کی بازی ہار گیا۔
لبنانی حکام کے مطابق دو مارچ کو اسرائیلی فوج نے لبنان میں وسیع پیمانے پر حملے شروع کیے تھے، جن میں 2,600 سے زائد افرادشہید اور 1.6 ملین سے زیادہ افراد بے گھر ہوئے۔
17 اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جسے بعد ازاں 17 مئی تک تین ہفتوں کے لیے بڑھا دیا گیا۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز جنوبی لبنان کے 11 قصبوں اور دیہاتوں کے رہائشیوں کو فوری طور پر انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گھر خالی کر دیں اور کھلے علاقوں میں کم از کم 1,000 میٹر دور منتقل ہو جائیں۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں اس الزام کے تحت کر رہی ہے کہ تنظیم نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجوؤں یا تنصیبات کے قریب موجود افراد خطرے میں ہو سکتے ہیں۔
💢 Israel kills at least 7 in southern Lebanon despite ceasefire
— Anadolu English (@anadoluagency) May 3, 2026
📍 Since 2 March, the Israeli army has killed over 2,600 people in Lebanon and displaced more than 1.6 million others https://t.co/o1witrhexl pic.twitter.com/DaJU8KChxv
واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں حملے جاری ہیں، جب کہ اس کی افواج ملک کے جنوب میں ایک پٹی پر بھی قابض ہیں، جہاں وہ اپنے مطابق حزب اللہ کے استعمال شدہ انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے مختلف دیہات کے رہائشیوں کو بھی جاری فوجی کارروائیوں کے باعث واپس نہ آنے کی ہدایت کی ہے۔
لبنان کی وزارت صحت نے بتایا کہ جمعہ کے روز جنوبی علاقوں میں اسرائیلی حملوں میں 13 افراد شہید ہوئے، جن میں ایک قصبہ بھی شامل ہے جہاں اسرائیلی فوج نے جنگ بندی کے باوجود انخلاء کا حکم جاری کیا تھا۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی افواج لبنان کی سرحد کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک "یلو لائن" کے اندر کارروائیاں کر رہی ہیں، جہاں بڑے پیمانے پر دھماکے اور عمارتوں کی مسماری بھی جاری ہے۔







