یو این ایچ سی آر کی نمائندہ کارولینا لنڈہوم بلنگ نے جنیوا میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ اسرائیلی حملوں اور جبری انخلا کے احکامات نے جنوبی لبنان، وادی بقاع، دارالحکومت بیروت اور شمالی علاقوں تک لوگوں کو متاثر کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک 12 لاکھ سے زائد افراد اپنے گھروں سے بے دخل ہو چکے ہیں، جب کہ پناہ گاہوں کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے اور متاثرہ خاندانوں کی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں وسطی بیروت کے گنجان آباد علاقوں پر بھی حملے کیے گئے، جہاں کئی افراد نے اجتماعی پناہ گاہوں میں پناہ لے رکھی تھی۔

حکام کے مطابق متاثرہ خاندان مسلسل خوف میں زندگی گزار رہے ہیں، جب کہ بچوں پر اس کے نفسیاتی اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

دوسری جانب حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان جھڑپیں بھی جاری ہیں۔ حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں اپنی زمینی کارروائیوں کو مزید وسعت دینے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک بڑا بفر زون قائم کیا جائے گا، جب کہ متعدد علاقوں میں جبری انخلا کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں، جن میں بیروت کے نواحی علاقے بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں، بشمول ہیومن رائٹس واچ، نے اسرائیلی اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہریوں کی جبری بے دخلی اور اجتماعی سزا جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتی ہے۔

مزید برآں جنوبی لبنان میں پلوں اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے باعث کئی علاقے مکمل طور پر کٹ گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد افراد محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں شدید رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں۔

زمینی رپورٹس کے مطابق جبری انخلا کے احکامات نے شہریوں میں شدید خوف و ہراس پیدا کر دیا ہے، جب کہ محفوظ مقامات تک رسائی بھی مشکل ہوتی جا رہی ہے، جس سے حکومت کو بڑھتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔