وزرائے خارجہ کے مطابق لبنان میں اب تک تقریباً 12 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جو ملک کی کل آبادی کا تقریباً 25 فیصد بنتے ہیں، جب کہ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں اکثریت عام شہریوں، بچوں، امدادی کارکنوں اور صحافیوں کی ہے۔
یورپی وزراء نے حزب اللہ کی جانب سے ایران کی حمایت میں اسرائیل پر حملوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر تمام جارحانہ کارروائیاں بند کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اسلحہ ڈال دے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ کشیدگی ایران پر امریکا و اسرائیل کی جنگ کے بعد لبنان تک پھیل گئی، جب حزب اللہ نے راکٹ حملے شروع کیے۔
بیان میں اقوام متحدہ کی عبوری فورس برائے لبنان کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا اور امن دستوں پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی، خصوصاً انڈونیشین امن اہلکاروں کی ہلاکت کو ناقابل قبول قرار دیا گیا۔
یورپی ممالک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ لبنانی حکومت کی جانب سے براہ راست مذاکرات کی پیشکش کو مثبت انداز میں قبول کرے، جب کہ تمام فریقین سے نومبر 2024 کی جنگ بندی کا احترام کرنے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1701 پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ کیا گیا۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ لبنان میں استحکام کے لیے اقدامات مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہیں اور فوری طور پر کشیدگی میں کمی اور سفارتکاری کو ترجیح دی جانی چاہیے۔







