یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران، اسرائیل، حزب اللہ اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر خطرناک موڑ اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
اسی لیے دنیا بھر میں ایک سوال پوچھا جا رہا ہے: آخر داحیہ کیا ہے اور یہ علاقہ مشرق وسطیٰ کی سیاست اور جنگوں میں اتنا اہم کیوں سمجھا جاتا ہے؟
داحیہ کیا ہے؟
عربی زبان میں داحیہ کا مطلب مضافاتی علاقہ یا سبرب ہوتا ہے۔ تاہم لبنان میں جب داحیہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس سے مراد بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ہوتے ہیں جو دارالحکومت کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
یہ علاقہ صرف ایک رہائشی ضلع نہیں بلکہ لبنان کے سیاسی، سماجی اور عسکری منظرنامے میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
یہاں لاکھوں افراد آباد ہیں اور بلند و بالا اپارٹمنٹ عمارتوں، تجارتی مراکز، دفاتر اور گنجان آبادی کی وجہ سے یہ بیروت کے مصروف ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔
حزب اللہ کا مضبوط گڑھ
داحیہ کو عموماً حزب اللہ کا سیاسی اور سماجی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ لبنان کی شیعہ آبادی کی بڑی تعداد اس علاقے میں رہتی ہے اور یہی طبقہ حزب اللہ کی بنیادی عوامی حمایت کا مرکز تصور کیا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے حزب اللہ کے متعدد سیاسی دفاتر، فلاحی ادارے اور تنظیمی ڈھانچے بھی اسی علاقے میں موجود رہے ہیں۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حزب اللہ اپنے بعض عسکری مراکز اور کمانڈ اینڈ کنٹرول نیٹ ورک بھی داحیہ میں قائم رکھتی ہے، جس کے باعث یہ علاقہ اسرائیلی حملوں کا مستقل ہدف بنتا رہا ہے۔
کیا داحیہ صرف حزب اللہ کے حامیوں کا علاقہ ہے؟
ماہرین اس تصور کو مکمل طور پر درست نہیں مانتے۔ اگرچہ داحیہ میں شیعہ آبادی کی اکثریت موجود ہے، لیکن یہ علاقہ صرف حزب اللہ کے حامیوں تک محدود نہیں۔
یہاں لبنان کے مختلف علاقوں سے آنے والے مزدور، ملازمین، کاروباری افراد اور شام سے تعلق رکھنے والے مہاجرین بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔
گزشتہ چند برسوں کے دوران داحیہ ایک مکمل شہری مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے جہاں روزگار، کاروبار اور رہائش کے وسیع مواقع موجود ہیں۔
اسی لیے جب اسرائیلی حملے ہوتے ہیں تو ان کے اثرات صرف حزب اللہ تک محدود نہیں رہتے بلکہ عام شہری بھی شدید متاثر ہوتے ہیں۔
ایران کے لیے داحیہ کی اہمیت
داحیہ کی اہمیت صرف لبنان تک محدود نہیں بلکہ ایران کی علاقائی حکمت عملی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔
حزب اللہ کو ایران کے "محورِ مزاحمت" کا سب سے طاقتور رکن سمجھا جاتا ہے۔ تہران کئی دہائیوں سے حزب اللہ کی سیاسی، عسکری اور مالی معاونت کرتا آیا ہے۔
اسی وجہ سے داحیہ پر حملہ محض لبنان کے ایک علاقے پر حملہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کے خلاف اقدام کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔
اسی پس منظر میں ایرانی قیادت ماضی میں یہ اشارہ دے چکی ہے کہ بیروت اور خصوصاً داحیہ پر بڑے حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
اپریل کی جنگ بندی اور مسلسل خلاف ورزیاں
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان اپریل میں جنگ بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا، جس کا مقصد سرحدی جھڑپوں اور فضائی حملوں کو روکنا تھا۔ تاہم زمینی حقائق مختلف رہے۔
لبنانی حکام اور حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ اسرائیل مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتا رہا ہے، جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور تقریباً روزانہ فضائی حملے کرتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے ڈرون اور راکٹ حملوں کے باعث اسے جوابی کارروائی کرنا پڑتی ہے۔
تازہ حملہ کیوں کیا گیا؟
اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ نے شمالی اسرائیل کی جانب متعدد ڈرونز بھیجے تھے، جس کے جواب میں بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں کارروائی کی گئی۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حملے میں حزب اللہ کے ایک ایسے مرکز کو نشانہ بنایا گیا جہاں سے اسرائیلی شہریوں اور جنوبی لبنان میں موجود اسرائیلی افواج کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
اس کے برعکس لبنان میں بہت سے مبصرین کا خیال ہے کہ یہ حملہ صرف ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام بھی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
کیا داحیہ دوبارہ جنگ کا میدان بن رہا ہے؟
2024 کی جنگ اور اس کے بعد کے مہینوں میں داحیہ کو شدید تباہی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ متعدد عمارتیں تباہ ہوئیں، ہزاروں افراد بے گھر ہوئے اور کاروباری سرگرمیاں تقریباً رک گئی تھیں۔
حالیہ ہفتوں میں حالات نسبتاً معمول پر آنا شروع ہوئے تھے۔ بازار دوبارہ کھل رہے تھے، لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے تھے اور زندگی کی رونقیں بحال ہو رہی تھیں۔
لیکن تازہ حملے نے ایک بار پھر ان خدشات کو جنم دے دیا ہے کہ کہیں داحیہ دوبارہ ایک بڑے تصادم کا مرکز نہ بن جائے۔
ایران، اسرائیل اور لبنان کے درمیان نیا محاذ؟
مشرق وسطیٰ کے موجودہ بحران میں داحیہ محض ایک رہائشی علاقہ نہیں بلکہ ایک علامت بن چکا ہے۔
یہ وہ مقام ہے جہاں حزب اللہ کی طاقت، ایران کا علاقائی اثر و رسوخ، اسرائیل کے سکیورٹی خدشات اور امریکا کی سفارتی کوششیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں۔
اسی لیے جب بھی داحیہ پر حملہ ہوتا ہے تو اسے صرف لبنان کا داخلی معاملہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ پورے خطے کے لیے ایک اہم اشارہ تصور کیا جاتا ہے۔
آگے کیا ہوسکتا ہے؟
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسرائیل داحیہ یا لبنان کے دیگر علاقوں میں اپنی کارروائیاں مزید بڑھاتا ہے تو حزب اللہ کے ردعمل کا امکان بھی بڑھ جائے گا۔
اس کے نتیجے میں نہ صرف لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک نیا محاذ کھل سکتا ہے بلکہ ایران بھی زیادہ فعال کردار ادا کر سکتا ہے۔
اسی لیے داحیہ پر ہونے والا تازہ حملہ محض ایک فضائی کارروائی نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں جاری بڑی جغرافیائی اور سیاسی کشمکش کا ایک اہم باب سمجھا جا رہا ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ حملہ ایک محدود واقعہ ثابت ہوتا ہے یا پھر خطے کو ایک نئی اور وسیع تر جنگ کی طرف دھکیل دیتا ہے۔






