یہ بات ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نیوز نے ایک باخبر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ صیہونی حکومت کے لبنان میں جاری حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی شمار کیے جائیں گے اور ایران اس سلسلے میں جائزہ لے رہا ہے۔
ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ لبنان میں حزب اللہ سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے پر اتفاق معاہدے کا حصہ تھا، لیکن اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے ہی روز جنوبی لبنان، بیروت اور بقاع وادی میں متعدد مقامات پر حملے کیے۔
BREAKING: Iran says it will withdraw from the US ceasefire agreement if Israel continues to violate it by attacking Lebanon.
— Al Jazeera Breaking News (@AJENews) April 8, 2026
Source: Iran’s Tasnim news agency pic.twitter.com/Cm7bezN6xW
ایرانی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی آمد و رفت روک دی۔ فارس نیوز نے بتایا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد صبح دو ٹینکروں کو گذرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اسرائیلی حملوں کے ساتھ ہی اس آمد و رفت کو روک دیا گیا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے ثالثوں کو اپنی شرط سے آگاہ کر دیا ہے کہ لبنان پر حملے جاری رہے تو وہ مذاکرات میں شریک نہیں ہوگا۔
The IDF said 50 Israeli Air Force fighter jets participated in the latest wave of attacks, destroying around 100 command centres and military infrastructure sites.
— Sky News (@SkyNews) April 8, 2026
Tehran has threatened to withdraw from the ceasefire if attacks on Lebanon continue.
🔗 https://t.co/IPkDJHQRmx pic.twitter.com/5eg8bkyGYw
اخبار کے مطابق ایران کے اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل باضابطہ طور پر امریکا ایران مذاکرات کا حصہ نہیں تھا اور جنگ بندی لبنان تک مکمل نہیں پہنچی۔
فارس نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران لبنان میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کے خلاف جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ باخبر سکیورٹی ذریعے کے مطابق اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد ایران مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر حملے کے لیے تیاریاں مکمل کر رہا ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں کی شدت اور ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی نے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، جب کہ لبنان نے پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک سے مدد طلب کی ہے تاکہ اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔







