یہ بات ایران کی نیم سرکاری خبر ایجنسی تسنیم نیوز نے ایک باخبر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے رپورٹ کی ہے۔ عہدیدار نے بتایا کہ صیہونی حکومت کے لبنان میں جاری حملے جنگ بندی کی خلاف ورزی شمار کیے جائیں گے اور ایران اس سلسلے میں جائزہ لے رہا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے واضح کیا کہ لبنان میں حزب اللہ سمیت تمام محاذوں پر جنگ روکنے پر اتفاق معاہدے کا حصہ تھا، لیکن اسرائیل نے جنگ بندی کے پہلے ہی روز جنوبی لبنان، بیروت اور بقاع وادی میں متعدد مقامات پر حملے کیے۔

ایرانی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی آمد و رفت روک دی۔ فارس نیوز نے بتایا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد صبح دو ٹینکروں کو گذرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اسرائیلی حملوں کے ساتھ ہی اس آمد و رفت کو روک دیا گیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے ثالثوں کو اپنی شرط سے آگاہ کر دیا ہے کہ لبنان پر حملے جاری رہے تو وہ مذاکرات میں شریک نہیں ہوگا۔

اخبار کے مطابق ایران کے اس فیصلے سے واضح ہوتا ہے کہ اسرائیل باضابطہ طور پر امریکا ایران مذاکرات کا حصہ نہیں تھا اور جنگ بندی لبنان تک مکمل نہیں پہنچی۔

فارس نیوز ایجنسی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایران لبنان میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں کے خلاف جوابی کارروائی کی منصوبہ بندی کو حتمی شکل دے رہا ہے۔ باخبر سکیورٹی ذریعے کے مطابق اسرائیل کی مسلسل خلاف ورزیوں کے بعد ایران مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر حملے کے لیے تیاریاں مکمل کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حملوں کی شدت اور ایران کی ممکنہ جوابی کارروائی نے خطے میں کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، جب کہ لبنان نے پاکستان سمیت دیگر دوست ممالک سے مدد طلب کی ہے تاکہ اسرائیل پر دباؤ بڑھایا جا سکے۔