عالمی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق اگرچہ بارودی مواد کی قلت فوج کے لیے چیلنج بن چکی ہے، لیکن فوج نے جنوبی علاقوں میں ہتھیاروں کی تلاش کے مشن تیز کر دیے ہیں۔
چند سال قبل تک ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کے عروج کے دوران فوج کا یہ اقدام ناقابلِ تصور تھا۔ لیکن گزشتہ سال اسرائیل کے ساتھ ہونے والی جنگ نے حزب اللہ کو شدید نقصان پہنچایا، ہزاروں جنگجو مارے گئے، قیادت ختم ہوگئی اور جنوب و مشرقی لبنان کے کئی علاقے تباہ ہوگئے۔
امریکا مسلسل دباؤ ڈال رہا ہے کہ لبنان حزب اللہ کو مکمل طور پر غیر مسلح کرے۔ امریکی نائب ایلچی مورگن اورٹاگس اس وقت بیروت میں ہیں تاکہ لبنانی حکام سے پیشرفت پر بات چیت کر سکیں۔
بارودی مواد ختم ہونے کے باعث لبنانی فوج اب ملنے والے اسلحہ کے ذخائر کو تباہ کرنے کے بجائے سیل کر رہی ہے۔ صرف ستمبر میں فوج نے جنوبی لبنان میں نو نئے اسلحہ خانے دریافت کیے، جب کہ حزب اللہ کی درجنوں سرنگیں بھی بند کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق فوج کو توقع ہے کہ سال کے اختتام تک جنوبی لبنان کا مکمل صفایا کر لیا جائے گا، جو ایک بڑی کامیابی ہوگی، کیونکہ 2006 کی جنگ کے بعد فوج حزب اللہ کو دوبارہ طاقتور ہونے سے روکنے میں ناکام رہی تھی۔
حکومت نے پانچ مرحلوں پر مشتمل منصوبہ منظور کیا ہے، جس کے تحت پہلے جنوبی لبنان، پھر شمالی اور مشرقی علاقوں میں ریاستی اسلحے کی اجارہ داری قائم کی جائے گی۔ فوج نے اعلان کیا ہے کہ وہ دسمبر تک جنوبی علاقہ کلیئر کر لے گی۔ تاہم، باقی ملک میں کارروائی کا انحصار اسرائیل کی جانب سے فضائی حملے روکنے پر ہوگا۔
واشنگٹن میں قائم امریکی تنظیم امریکن ٹاسک فورس لبنان کے سربراہ ایڈ گیبریل کے مطابق فوج کی محتاط حکمت عملی خانہ جنگی کے خطرے کو کم کرنے کی کوشش ہے۔
حزب اللہ نے جنوبی لبنان میں غیر انسانی اسلحہ ذخائر ضبط کیے جانے کی مخالفت نہیں کی، لیکن گروپ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ دیگر علاقوں میں اپنے ہتھیار نہیں چھوڑے گا۔
دوسری جانب لبنانی فوج کو خود بھی اسلحے کی درست معلومات حاصل نہیں۔ وہ اسرائیل سے ملنے والی انٹیلیجنس پر انحصار کر رہی ہے، جو "ٹروس مکینزم" کے تحت امریکا، فرانس، لبنان، اسرائیل اور اقوام متحدہ کے امن دستوں کے ساتھ قائم کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: غزہ فورس میں کون سی غیرملکی افواج قابلِ قبول ہوں گی، فیصلہ اسرائیل کرے گا، نیتن یاہو
جون تک فوج کے دھماکہ خیز مواد کے ذخائر ختم ہوگئے تھے اور اگست میں ایک اسلحہ ڈپو کو ناکارہ بنانے کی کوشش کے دوران چھ فوجی ہلاک ہوئے۔
امریکا نے لبنانی فوج کی مدد کے لیے 14 ملین ڈالر مالیت کا دھماکہ خیز مواد اور 192 ملین ڈالر کی اضافی امداد کا اعلان کیا ہے، تاہم ان کی ترسیل میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
ادھر حزب اللہ کا کہنا ہے کہ جب تک اسرائیلی جارحیت ختم نہیں ہوتی، مقبوضہ لبنانی علاقے خالی نہیں کیے جاتے اور قیدی رہا نہیں کیے جاتے، اُس وقت تک ہتھیار نہیں چھوڑے جائیں گے۔
ماہرین کے مطابق شمالی اور مشرقی لبنان میں کارروائی کے بغیر مکمل غیر مسلح کرنا ممکن نہیں، لیکن وہاں قدم بڑھانا حزب اللہ اور شیعہ آبادی کے احتجاج کو بھڑکا سکتا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق لبنان کا یہ فیصلہ تاریخی اور جرات مندانہ ہے، دنیا اس عمل کو بغور دیکھ رہی ہے۔







