اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سینیٹر لنزے گراہم کی موت کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں اور سازشی نظریات گردش کر رہے ہیں، تاہم اب تک سامنے آنے والی معلومات میں کسی بھی مجرمانہ کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ ان کے مطابق اگر ایف بی آئی ان غیر مصدقہ دعوؤں کی بنیاد پر وسیع پیمانے پر تحقیقات کر رہی ہے تو یہ ادارے کے وسائل کا درست استعمال نہیں۔
امریکی صدر نے بتایا کہ انہوں نے اس معاملے سے متعلق طبی رپورٹس کا جائزہ لیا ہے اور وائٹ ہاؤس کے طبی ماہرین سے بھی مشاورت کی ہے، دستیاب طبی شواہد کے مطابق لنزے گراہم کی وفات ایک قدرتی طبی پیچیدگی کے باعث ہوئی، جس میں کسی مجرمانہ پہلو کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔
71 سالہ ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم گزشتہ ہفتے یوکرین کے سرکاری دورے سے امریکا واپس پہنچنے کے کچھ ہی وقت بعد انتقال کر گئے تھے۔ دورۂ یوکرین کے دوران انہوں نے یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بھی کی تھیں، جس کے بعد ان کی اچانک موت نے مختلف حلقوں میں چہ مگوئیوں کو جنم دیا۔
واشنگٹن کے میڈیکل ایگزامنر کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ کے مطابق سینیٹر گراہم کی موت کی وجہ شہ رگ (Aorta) کا پھٹ جانا، یعنی Aortic Dissection قرار دی گئی، جو شریانوں کی سختی سے متعلق قلبی بیماری کے باعث پیش آیا۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ ایک نہایت خطرناک طبی کیفیت ہے جس کی بروقت تشخیص ہر صورت ممکن نہیں ہوتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا ہے کہ اورٹک ڈائسیکشن کی علامات بعض اوقات عام کمر درد جیسی محسوس ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے بروقت تشخیص مشکل ہو جاتی ہے، لنزے گراہم بھی کچھ عرصے سے کمر درد کی شکایت کرتے تھے، تاہم کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ایک جان لیوا بیماری کی علامت ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ گراہم کے والد بھی تقریباً اسی عمر میں دل سے متعلق پیچیدگی کے باعث انتقال کر گئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خاندان میں قلبی بیماری کا پس منظر موجود تھا۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کے قریبی اتحادی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے
دوسری جانب گراہم کی وفات کے بعد ایف بی آئی اور دیگر وفاقی اداروں کے اہلکاروں کو واشنگٹن میں ان کی رہائش گاہ کے باہر دیکھا گیا، جس پر مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔ تاہم ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے واضح کیا کہ ادارہ صرف مقامی حکام کی معاونت کر رہا ہے اور اب تک کسی مجرمانہ سرگرمی کے شواہد نہیں ملے۔
ادھر سوشل میڈیا پر لنزے گراہم کی موت سے متعلق متعدد غیر مصدقہ دعوے بھی گردش کرتے رہے، جن میں مختلف ممالک اور خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کے الزامات شامل تھے، تاہم امریکی حکام نے واضح کیا ہے کہ ان دعوؤں کی تائید کرنے والا کوئی قابلِ اعتماد ثبوت موجود نہیں اور تفتیش میں بھی اب تک کسی سازش کے آثار سامنے نہیں آئے۔







