برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ اتوار کو ایسٹر کے موقع پر پیش آیا، جب متاثرہ کشتی کو وہاں سے گزرنے والی دو تجارتی کشتیوں نے دیکھا اور ان کے عملے نے ابتدائی امدادی کارروائی کی۔
نگران اداروں کے مطابق بعد میں متاثرین کو اٹلی کے کوسٹ گارڈز کی کشتی میں منتقل کر کے لیمپیڈوسا لے جایا گیا، تاہم اٹلی کی وزارت داخلہ اور کوسٹ گارڈ کی جانب سے اس واقعے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
بچ جانے والے افراد کے مطابق کشتی میں مجموعی طور پر 105 افراد سوار تھے، جن میں سے 71 اب بھی لاپتہ ہیں۔ ریسکیو تنظیم سی واچ کی جانب سے جاری ویڈیو میں الٹی ہوئی کشتی سے چمٹے ہوئے متعدد افراد کو دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک تجارتی جہاز ان کے قریب پہنچ کر امداد فراہم کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال بحیرۂ روم میں خراب موسم کے باعث سمندری سفر شدید متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں شمالی افریقہ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کو مزید خطرات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے مطابق اس سال بحیرۂ روم کے وسطی حصے میں کم از کم 683 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جو 2014 کے بعد کسی بھی سال کے مقابلے میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔







