خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یہ اطلاعات گردش کر رہی ہیں کہ واشنگٹن نے ایران کو ایک بار پھر سخت شرائط پر مشتمل امن تجویز بھیجی ہے۔ ان شرائط میں ممکنہ تبدیلی مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باضابطہ خاتمے اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے معاہدے میں مزید تاخیر کا سبب بن سکتی ہے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سخت بیانات اور وقفے وقفے سے کشیدگی کے واقعات سے متاثر رہے ہیں۔
امریکی اخبارات نیویارک ٹائمز اور امریکی ویب سائٹ ایکسیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو غور کے لیے ایک نیا مذاکراتی فریم ورک ارسال کیا ہے جس میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت شرائط شامل کی گئی ہیں، تاہم ان کی تفصیلات واضح نہیں ہو سکیں۔
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم کسی ایسے معاہدے کی منظوری نہیں دیں گے جب تک ہمیں مکمل یقین نہ ہو جائے کہ ایرانی عوام کے حقوق کا تحفظ کیا گیا ہے۔‘‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی ترجیحات میں ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا اور بند کی گئی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔
انہوں نے اپنی بہو لارا ٹرمپ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں، جو امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز پر نشر ہوا، کہا کہ ’’مجھے صرف ایک ضمانت درکار ہے کہ کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، اور انہوں نے اس پر اتفاق کیا ہے، جو بہت دلچسپ بات ہے۔‘‘
تاہم تہران اس سے قبل بھی صدر ٹرمپ کے ان دعوؤں پر شکوک کا اظہار کر چکا ہے، جبکہ دونوں فریق کئی اہم نکات پر اب بھی ایک دوسرے سے خاصے فاصلے پر ہیں۔
ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے جوہری پروگرام پر بامعنی مذاکرات شروع کرنے سے قبل اپنے تقریباً بارہ ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کی بحالی چاہتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے صدر ٹرمپ کے اس دعوے کو بھی مسترد کیا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر تباہ کیے جا سکتے ہیں اور اسے ’’بے بنیاد‘‘ قرار دیا ہے۔
تہران نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے، جہاں اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے درمیان کشیدگی جاری ہے۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں ممکنہ فوجی کارروائی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے کوئی جلدی نہیں ہے، اگر ہمیں وہ نہ ملا جو ہم چاہتے ہیں تو معاملہ کسی اور طریقے سے ختم ہوگا۔‘‘
یہ بیان امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے حالیہ ریمارکس سے بھی ہم آہنگ ہے، جنہوں نے کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ جنگ دوبارہ شروع کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔
اگرچہ اپریل میں ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی اور پاکستان کی ثالثی سے سفارتی کوششوں کے بعد خطے میں بڑے حملے رک گئے تھے، تاہم وقفے وقفے سے کشیدگی اور محدود جھڑپیں اب بھی جاری ہیں۔






