عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے فاکس بزنس نیٹ ورک کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ انہیں امید ہے کہ سعودی عرب سمیت دیگر ممالک بھی اس عمل کا حصہ بنیں گے۔ ان کے مطابق، جب سعودی عرب شامل ہوگا تو باقی ممالک بھی خود بخود شامل ہو جائیں گے۔

ٹرمپ نے بتایا کہ انہوں نے بدھ تک مختلف ممالک کے ساتھ مثبت اور تعمیری بات چیت کی ہے جنہوں نے معاہدے میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میرا خیال ہے کہ وہ سب بہت جلد شامل ہو جائیں گے۔"

یہ انٹرویو جمعرات کو ریکارڈ کیا گیا تھا اور جمعہ کو نشر ہوا۔

خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات اور بحرین نے 2020 میں ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے بعد وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے والے پہلے عرب ممالک بنے۔ بعد ازاں مراکش اور سوڈان نے بھی اس میں شمولیت اختیار کی۔

ٹرمپ نے پیر کے روز مصر کے شہر شرم الشیخ میں مسلم اور یورپی رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا تھا، جس میں غزہ کی پٹی کے مستقبل پر بات چیت ہوئی۔ امریکی صدر نے اپنے منصوبے کو غزہ پر حملوں کے خاتمے اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ مزید ممالک بھی جلد "ابراہیمی معاہدے" میں شامل ہوں گے اور یہاں تک کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدے کے امکان کا بھی عندیہ دیا۔ ٹرمپ کے مطابق، ان کا خیال ہے کہ ایران بھی امن چاہتا ہے۔