فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کارروائیاں آئندہ دو سے تین ہفتوں میں مکمل ہو سکتی ہیں، کیونکہ ان کی انتظامیہ ایک جانب فضائی مہم جاری رکھے ہوئے ہے اور دوسری جانب ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں۔
تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایران کے خلاف کارروائیاں ختم ہوں گی، قیمتیں نیچے آ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اپنا کام مکمل کر رہا ہے اور یہ عمل ممکنہ طور پر دو ہفتوں میں ختم ہو سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی کارروائیوں کا خاتمہ کسی معاہدے سے مشروط نہیں ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا کو یہ یقین ہو جائے کہ ایران طویل مدت کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے قابل نہیں رہا تو کارروائیاں ختم کر دی جائیں گی، چاہے معاہدہ ہو یا نہ ہو۔
وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ صدر ٹرمپ بدھ کی رات نو بجے قوم سے خطاب کریں گے، جس میں وہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر اہم اپ ڈیٹ دیں گے۔
یہ کشیدگی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی اور اب پانچویں ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ اس دوران خطے میں جوابی کارروائیاں بھی جاری رہی ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث عالمی تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔







