ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ حماس کے 25 ہزار جنگجو مارے جا چکے ہیں اور بقیہ جنگجو محاصرے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر حماس اتوار شام چھ بجے تک تمام قیدی اور یرغمالیوں کی لاشیں واپس نہیں کرے گا تواس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں حماس کے باقی ارکان کہاں اور کتنے ہیں، انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے لکھا کہ بس میرا ایک لفظ بس جاؤ کہنے کی دیر ہے اور حماس کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے گا۔

انہوں نے لکھا کہ وہ غزہ کے تمام بے گناہ فلسطینیوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ غزہ کے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہوجائیں، جہاں ان کی دیکھ بھال کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ حماس کے لیے خوش قسمتی ہے کہ وہ اُن کو آخری موقع دے رہے ہیں تاکہ وہ بچ سکیں۔

انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں تین ہزار سال بعد امریکا کی مدد سے عرب ممالک اور اسرائیل کےدرمیان امن قائم کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے ذریعے ہم مشرق وسطیٰ میں کسی نہ کسی طرح امن قائم کریں گے۔ تشدد اور خونریزی بند ہو جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ معاہدے کے تحت تمام یرغمالیوں کو رہاکیا جانا چاہیے، بشمول ان کی لاشیں جو مر چکے ہیں، اب حماس اتوار شام چھ بجے تک معاہدہ کر لے، اگر یہ معاہدہ طے نا پایا تو حماس کے لیے جہنم کے دروازے کھول دئیے جائیں گے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم تو ہو کر ہی رہے گا چاہے دوسرے راستے سے ہی کیوں نا ہو۔

واضح رہے کہ عرب ممالک اور ترک ثالث حماس پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اس منصوبے پر مثبت ردعمل دے۔ دوسری جانب حماس کے ایک سینئر اہلکار نے عندیہ دیا ہے حماس اس منصوبے کو مسترد کر سکتا ہے۔