امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آئندہ دو سے تین روز میں ممکنہ جوہری معاہدے کا ابتدائی مسودہ تیار کر لیا جائے گا، جسے حتمی منظوری کے بعد امریکی خصوصی ایلچی کے سپرد کیا جائے گا، دونوں ممالک کے مذاکرات کار تیزی سے پیش رفت کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایک قابلِ قبول اور پائیدار معاہدہ طے پا سکے۔

انہوں  نے کہا کہ مذاکرات کے دوران ایران نے جوہری افزودگی مکمل طور پر روکنے کی کوئی پیشکش نہیں کی اور نہ ہی امریکا کی جانب سے ایسا کوئی باضابطہ مطالبہ سامنے آیا ہے۔ ان کے بقول بات چیت کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور اعتماد سازی کے اقدامات کو آگے بڑھانا ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاملے کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، طاقت کے استعمال سے مسائل مزید گھمبیر ہوں گے۔ تاہم اگر ایران پر حملہ کیا گیا یا دباؤ بڑھایا گیا تو تہران اپنے دفاع میں مؤثر ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، ایران سفارت کاری کے دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے لیکن یکطرفہ دباؤ یا دھمکیوں کو قبول نہیں کرے گا۔

مزید پڑھیں: اسرائیل پورا مشرقِ وسطیٰ حاصل کرلے تو اعتراض نہیں ہوگا، امریکی سفیر مائیک ہکابی

ایرانی وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ خطے میں کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی برادری تک پھیل سکتے ہیں،جنگ کا راستہ اختیار کرنے سے سفارتی کوششیں سبوتاژ ہوں گی اور صورتحال مزید پیچیدہ ہو جائے گی۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکی کانگریس کے اراکین کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ، سخت پابندیاں اور اسنیپ بیک جیسے اقدامات ماضی میں بھی آزمائے جا چکے ہیں لیکن ان سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق باہمی احترام اور برابری کی بنیاد پر بات چیت ہی آگے بڑھنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

ان  کا کہنا تھا کہ اگر ایران سے احترام کی زبان میں گفتگو کی جائے گی تو جواب بھی مثبت اور تعمیری ہوگا، لیکن دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کیا گیا تو ایران بھی اسی انداز میں ردعمل دے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تہران اپنے قومی مفادات اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائی کے امکان پر غور کرنے کا عندیہ دیا تھا، جس کے بعد خطے میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند روز میں مجوزہ مسودہ اور دونوں ممالک کے بیانات خطے کی آئندہ صورتحال کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔