رپورٹس کے مطابق دورے کا بنیادی مقصد واشنگٹن اور نئی دہلی کے درمیان حالیہ تجارتی کشیدگی کے بعد تعلقات کو بہتر بنانا ہے، خاص طور پر روسی تیل کی خریداری کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان اختلافات سامنے آئے تھے۔

نئی دہلی میں مارکو روبیو نے امریکی سفارتخانے کے نئے ونگ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی اور اسے  دوطرفہ تعلقات سے امریکی وابستگی کی علامت  قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور انڈیا کے تعلقات انڈو پیسیفک حکمتِ عملی کا اہم ستون ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو اور مودی نے تجارت، دفاعی تعاون اور جدید و ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز میں اشتراک بڑھانے پر اتفاق کیا۔

دورے کے دوران توانائی کے معاملات بھی خاص توجہ کا مرکز رہے، کیونکہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث بھارت کو توانائی بحران کا سامنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق روبیو نے انڈیا پر زور دیا کہ وہ روس کے بجائے امریکا اور وینزویلا سے زیادہ تیل خریدنے پر غور کرے۔

مارکو روبیو نے ایران کے حوالے سے جاری مذاکرات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے اور آئندہ چند دنوں میں اہم اعلان سامنے آسکتا ہے۔

انہوں نے ایران سے مطالبہ دہرایا کہ وہ آبنائے ہرمز میں آزادانہ گزرگاہ یقینی بنائے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر حوالے کرے، جسے تہران پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔

دورۂ انڈیاکے دوران روبیو نے  مدر ٹریسا  کی آخری آرام گاہ اور ان کے فلاحی ادارے کے ہیڈکوارٹر کا بھی دورہ کیا، جب کہ وہ آگرہ اور جے پور جانے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’ثالثی کی کوششیں مزید تیز‘، فیلڈ مارشل عاصم منیرکی ایرانی وزیرِ خارجہ اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف سے ملاقات

خیال رہے کہ یہ دورہ  کواڈ  اتحاد کے اجلاس سے قبل ہو رہا ہے، جس میں امریکا، انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ یہ اتحاد خطے میں چین کے بڑھتے اثرورسوخ کے تناظر میں اہم سمجھا جاتا ہے۔

امریکا اور انڈیا کے تعلقات پر پاکستان اور امریکا کے بڑھتے روابط کا بھی اثر دیکھا جا رہا ہے، خصوصاً ایران مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کے بعد نئی دہلی میں تشویش پائی جا رہی ہے۔