منگل کے روز ماسکو میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکا اور اسرائیل ایران پر حملے کر رہے ہیں، تاہم روس کے پاس ایسے شواہد موجود نہیں جو یہ ثابت کریں کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے میں مصروف تھا۔
Russian Foreign Minister Sergei Lavrov said that Moscow had still seen no evidence that Iran was developing nuclear weapons as the US and Israel pursue their attack https://t.co/fdXIeIQp4p pic.twitter.com/zLUjA0qVXN
— Reuters (@Reuters) March 3, 2026
ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ایران کے خلاف کارروائی کے لیے مختلف وجوہات بیان کی ہیں۔ پیر کے روز اپنے حالیہ اور تفصیلی عوامی بیان میں انہوں نے کہا کہ حملوں کا حکم تہران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو ناکام بنانے کے لیے دیا گیا۔
سرگئی لاوروف نے ماسکو میں برونائی کے وزیرِ خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کر رہا تھا، جو اس جنگ کا واحد نہیں تو بنیادی جواز ضرور قرار دیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر حملوں کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جا رہے ہیں اور عرب ممالک کو معاشی اور جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
#BREAKING
— Tehran Times (@TehranTimes79) March 3, 2026
NO evidence Iran was developing nuclear weapons — Russian FM Sergey Lavrov
There is information from the IAEA and American intelligence that Iran did not manufacture nuclear weapons and did not have any plans to pic.twitter.com/TxNs9EvjjH
روسی وزیرِ خارجہ نے تمام فریقین سے فوری طور پر دشمنی ختم کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہاکہ غیر مشروط ابتدائی اقدام کے طور پر ہمیں ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے کہ ایسی کسی بھی کارروائی کو روکا جائے جس کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہوں۔
انہوں نے ایران میں ایک اسکول پر مبینہ بم دھماکے کا بھی حوالہ دیا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی اور امریکی حملوں کے دوران جنوبی ایران کے ایک قصبے میں کمسن بچیوں کے پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 169 بچے شہید ہوئے۔






