مائیکروسافٹ نے اسرائیلی خفیہ ادارے کی جانب سے فلسطینی شہریوں کی بڑے پیمانے پر جاسوسی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی کلاؤڈ سروسز تک اس کی رسائی بند کر دی ہے۔
یہ انکشاف برطانوی اخبار دی گارڈین اور اسرائیلی تحقیقی ادارے لوکل کال کی ایک مشترکہ رپورٹ میں سامنے آیا ہے جس کے مطابق اسرائیلی فوجی انٹیلیجنس فلسطینی شہریوں کی روزانہ لاکھوں فون کالز ریکارڈ کر کے ان کا تجزیہ کرتی تھی اور یہ تمام ڈیٹا مائیکروسافٹ کے ایزور کلاؤڈ پلیٹ فارم پر محفوظ کیا جاتا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا نیدرلینڈز میں واقع مائیکروسافٹ کے ڈیٹا سینٹر میں رکھا گیا تھا اور اس کا حجم تقریباً آٹھ ہزار ٹیرا بائٹس تھا۔
تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ ڈیٹا غزہ میں فضائی حملوں کی منصوبہ بندی اور اہداف کے تعین کے لیے استعمال کیا گیا۔
مائیکروسافٹ کے صدر بریڈ اسمتھ نے اس بارے میں کہا کہ کمپنی کسی بھی حکومت کو شہریوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کے لیے اپنی خدمات فراہم نہیں کرتی۔
رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد اسرائیل نے تیزی سے یہ ڈیٹا یورپی یونین سے باہر منتقل کر دیا اور اب اسے ایمیزون ویب سروسز پر منتقل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنی نے اسرائیلی فوج کے ساتھ اپنی خدمات کا خاتمہ کیا ہے تاہم کمپنی اور اسرائیلی فوج کے درمیان دیگر تجارتی تعلقات اب بھی برقرار ہیں۔
غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں میں اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں ان اقدامات کو نسل کشی قرار دیا گیا ہے تاہم اسرائیل اس موقف کو تسلیم نہیں کرتا۔
اس معاملے پر اسرائیلی حکومت یا فوج کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضع رہے کہ تجزیہ کاروں کے مطابق مائیکروسافٹ کا یہ اقدام بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک اہم مثال بن سکتا ہے اور آئندہ دیگر کمپنیاں بھی اپنی خدمات کے استعمال پر نظر ثانی کر سکتی ہیں۔







