انڈین میڈیا کے مطابق عمرہ زائرین بدر اور مدینہ کے درمیان مفرحات کے علاقے میں ایک بس میں سفر کر رہے تھے کہ اچانک بس کی ٹکر ایک آئل ٹینکر سے ہوگئی۔ شدید تصادم کے باعث بس میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں بس میں موجود تقریباً تمام مسافر موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔

عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سعودی عرب میں انڈین سفارتخانے نے تصدیق کی ہے کہ حادثے میں انڈین شہری شامل تھے۔ سفارتخانے کی جانب سے جاری بیان میں حادثے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا گیا۔

انڈین وزیراعظم نریندر مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اظہار افسوس کرتے ہوئے لکھا کہ مدینہ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے سے بے حد غمزدہ ہوں۔ میری دعائیں اور تعزیت ان تمام خاندانوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔

انہوں نے مزید لکھا  کہ ریاض میں انڈین سفارتخانہ اور جدہ میں قونصل خانہ متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے سعودی حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

انڈین میڈیا کا کہنا ہے کہ بس میں 45 سے 46 افراد سوار تھے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے، اور خدشہ ہے کہ تمام افراد حادثے میں جاں بحق ہوئے ہیں، تاہم حکام کی جانب سے حتمی تعداد تاحال جاری نہیں کی گئی۔

خیال رہے کہ سعودی عرب میں مقدس مقامات کے درمیان سفر کے دوران حادثات کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں۔ حج کے دنوں میں ٹریفک کا دباؤ بڑھ جانے سے خطرات مزید بڑھ جاتے ہیں، جب کہ عمرہ سیزن پورا سال جاری رہنے کے باعث شاہراہیں اکثر مصروف رہتی ہیں۔

واضح رہے کہ مارچ 2023 میں بھی مکہ جانے والی ایک بس میں آگ لگنے سے 20 افراد جاں بحق اور دو درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے، جب کہ اکتوبر 2019 میں مدینہ کے قریب ایک بس اور بھاری گاڑی کے تصادم میں 35 زائرین جاں بحق ہوئے تھے۔