سعودی ہیریٹیج اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آثار کی یہ بڑی تعداد کئی ماہ پر محیط فیلڈ سروے اور تحقیقاتی مراحل مکمل ہونے کے بعد سامنے آئی۔ دریافت ہونے والے مقامات میں مختلف ادوار سے تعلق رکھنے والے تاریخی نشانات، چٹانی نقوش، قدیم رہائشی آثار اور ابتدائی اسلامی دور کے شواہد شامل ہیں۔

حکام کے مطابق دریافت ہونے والے آثار میں ایک قدیم اور نایاب چٹانی کتبہ بھی شامل ہے جس نے ماہرینِ آثار قدیمہ کی خصوصی توجہ حاصل کر لی ہے۔ کتبے پر درج عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ ’’اللہ دنیا اور آخرت میں عمر بن الخطاب کا والی ہے‘‘۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحریر ابتدائی اسلامی دور کے عقائد، سماجی رجحانات اور اس زمانے کے طرزِ تحریر کے بارے میں اہم معلومات فراہم کر سکتی ہے۔

سعودی حکام کے مطابق کتبے کی تاریخی حیثیت کا تعین کرنے کے لیے مزید سائنسی اور تحقیقی جائزے جاری ہیں تاکہ اس کے زمانے، تحریری اسلوب اور پس منظر کے بارے میں مستند معلومات حاصل کی جا سکیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس نوعیت کی دریافتیں اسلامی تاریخ کے اہم ابواب پر نئی روشنی ڈال سکتی ہیں۔

ہیریٹیج اتھارٹی نے بتایا کہ المہد گورنری قدیم زمانے سے مختلف تہذیبوں اور قافلوں کے گزرنے کا اہم راستہ رہی ہے، جس کے باعث یہاں متنوع تاریخی نشانات محفوظ رہے۔ حالیہ دریافتوں میں ملنے والے متعدد نقوش، تحریریں اور آثار اس علاقے کی طویل تاریخی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں۔

ادارے کے مطابق دریافت شدہ تمام آثار کی دستاویز بندی، نقشہ سازی اور سائنسی تجزیے کا عمل جاری ہے جبکہ انہیں قومی تاریخی ورثے کے تحفظ کے منصوبے کے تحت محفوظ بھی کیا جائے گا، سعودی عرب اپنے تاریخی اور ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے جدید تحقیق اور آثارِ قدیمہ کی کھدائیوں کا دائرہ مسلسل وسیع کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ  مدینہ منورہ اور اس کے گرد و نواح میں ہونے والی یہ نئی دریافتیں نہ صرف خطے کی قدیم تاریخ کے اہم پہلو اجاگر کریں گی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے تاریخی ورثے کے تحفظ اور مطالعے کے نئے مواقع بھی فراہم کریں گی۔