اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری ایک طویل بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ملاقات اچھی رہی، زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا، لیکن سب سے اہم نکتہ یعنی جوہری معاملہ حل طلب ہی رہا۔

انہوں نے کہا کہ آزادانہ آمدورفت سے متعلق معاہدہ کسی بھی وقت طے پا سکتا تھا، تاہم ایران نے اس کی اجازت نہیں دی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ ممکنہ طور پر سمندر میں بارودی سرنگیں موجود ہیں، جن کے بارے میں صرف ایران کو علم ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی بحریہ کو ہدایت دی ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں ہر اس جہاز کی تلاشی لی جائے اور اسے روکا جائے جس نے ایران کو ٹول ادا کیا ہو۔ ان کے مطابق امریکی بحریہ جلد ہی ایرانی بارودی سرنگوں کو بھی ناکارہ بنانے کے اقدامات شروع کرے گی۔

انہوں نے خبردار کیا کہ جو بھی غیر قانونی ٹول ادا کرے گا اسے کھلے سمندر میں محفوظ راستہ نہیں ملے گا، جب کہ کسی بھی ایرانی جانب سے امریکا یا پرامن جہازوں پر حملے کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔

امریکی صدر کے مطابق آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کی ناکہ بندی جلد شروع کی جائے گی۔

ایک اور بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا وعدہ کیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث دنیا بھر میں بے چینی اور تجارتی خلل پیدا ہوا۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر اس اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ کو کھولنے کے اقدامات کرے۔

انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور مذاکرات کار جیرڈ کشنر کی جانب سے مکمل بریفنگ دی گئی ہے۔

ٹرمپ نے پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم کی کوششوں کو بھی سراہا۔

ان کے مطابق تقریباً 20 گھنٹے جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد یہ واضح ہوا کہ بنیادی مسئلہ صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ایران اپنے جوہری عزائم ترک کرنے پر آمادہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کئی امور پر اتفاق رائے ہو گیا تھا، جو فوجی کارروائی کے تسلسل سے بہتر پیش رفت تھی، تاہم ان کے بقول یہ تمام نکات اس حقیقت کے سامنے غیر اہم ہیں کہ جوہری طاقت ایسے غیر مستحکم اور غیر متوقع عناصر کے ہاتھ میں نہیں دی جا سکتی۔