وزیرِ مواصلات کے مطابق حکومت آسٹریلیا سمیت دیگر ممالک میں نافذ طریقہ کار کا جائزہ لے رہی ہے، تاکہ نوجوانوں کو سائبر کرائم، مالی دھوکے اور جنسی استحصال جیسے آن لائن خطرات سے بچایا جا سکے۔

 انہوں نے امید ظاہر کی کہ سوشل میڈیا کمپنیاں حکومتی فیصلے پر عمل کرتے ہوئے 16 سال سے کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس بنانے پر پابندی لگا دیں گی۔

دنیا بھر میں کم عمر صارفین کی ذہنی صحت اور فلاح پر سوشل میڈیا کے منفی اثرات کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی تناظر میں رواں ماہ ڈنمارک نے بھی 15 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

گزشتہ سال آسٹریلیا میں بھی اسی نوعیت کا قانون منظور کیا گیا تھا، جب کہ امریکا میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف کم عمر صارفین کو نقصان پہنچانے کے الزام میں مقدمات دائر کیے جا چکے ہیں۔