غیرملکی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق وزارتِ ٹرانسپورٹ کا کہنا ہے کہ اس بار سرچ آپریشن ان مخصوص علاقوں میں کیا جائے گا جنہیں ماہرین نے طیارے کے ملنے کے لیے سب سے زیادہ ممکنہ مقامات قرار دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام اس سانحے سے متاثرہ خاندانوں کو ’’حقیقی بندش‘‘ فراہم کرنے کے عزم کی توسیع ہے۔

یاد رہے کہ ملائیشیا ایئرلائنز کی پرواز ایم-ایچ 370 آٹھ مارچ 2014ء کو کوالالمپور سے بیجنگ روانہ ہوئی اور  ٹیک آف کے کچھ دیر بعد ریڈار سے غائب ہوگئی۔ بوئنگ 777 طیارے میں 227 مسافر اور 12 رکنی عملہ موجود تھا، جن میں سے دو تہائی کا تعلق چین سے تھا۔

تحقیقات کے مطابق طیارہ اپنے طے شدہ راستے سے ہٹ کر جنوب کی طرف بحرِ ہند کی دور دراز حدود کی جانب چلا گیا، جہاں امکان ہے کہ ایندھن ختم ہونے پر وہ سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا۔

تین سالہ آسٹریلوی سرچ آپریشن کے باوجود 1,20,000 مربع کلومیٹر کے وسیع علاقے میں طیارے کا ملبہ نہیں مل سکا، البتہ مشرقی افریقا اور بحرِ ہند کے ساحلوں سے کچھ ممکنہ ٹکڑے برآمد ہوئے تھے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق برطانوی اور امریکی کمپنی اوشن اِنفینٹی 30 دسمبر سے اپنا آپریشن دوبارہ شروع کرے گی۔ ملائیشیا کی حکومت نے کمپنی کے ساتھ ’نو فائنڈ، نو فیس‘ معاہدہ کیا ہے، یعنی اگر طیارے کا بڑا اور قابلِ تصدیق ملبہ نہ ملا تو کمپنی کو کوئی ادائیگی نہیں ہوگی۔

مزید پڑھیں: جنوبی کوریا کے صدر کا شمالی کوریا سے معافی مانگنے پر غور، معاملہ کیا ہے؟

اوشن اِنفینٹی کو 70 ملین ڈالر کی ادائیگی صرف اسی صورت میں ہوگی جب نیا 15,000 مربع کلومیٹر پر مشتمل تلاش کا علاقہ کامیاب ثابت ہوا۔

مسافروں کے لواحقین کئی سالوں سے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ تلاش بند نہ کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے ملائیشیا ایئرلائنز، بوئنگ، رولز روئس اور انشورنس گروپس سے معاوضے کے حصول کے لیے بھی مقدمات دائر کیے ہوئے ہیں۔