سرکاری خبر رساں ادارے اسٹوڈنٹ نیوز نیٹ ورک کے مطابق صدر پزشکیان نے ہفتے کے روز ٹیلی وژن خطاب میں کہا کہ بیرونی طاقتوں نے بعض معصوم لوگوں کو اس تحریک کے ساتھ جوڑ کر سڑکوں پر اتارا اور انہیں ملک کو توڑنے، عوام کے درمیان نفرت اور تقسیم پیدا کرنے پر اکسایا۔

انہوں نے کہا کہ عام احتجاج میں نہ تو ہتھیار اٹھائے جاتے ہیں، نہ فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور نہ ہی ایمبولینسوں یا بازاروں کو آگ لگائی جاتی ہے۔ حکومت مظاہرین سے بات چیت اور ان کے تحفظات سننے کے لیے تیار ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ محض سماجی احتجاج نہیں تھا بلکہ غیر ملکی طاقتوں نے ایران کے داخلی مسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے معاشرے میں تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کی۔

ایرانی حکام کے مطابق حالیہ احتجاج کے دوران تین ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جن میں زیادہ تر سکیورٹی اہلکار یا عام شہری شامل تھے جو مبینہ طور پر  فسادی عناصر  کے تشدد کا نشانہ بنے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ، حتیٰ کہ دسیوں ہزار ہونے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

ادھر گزشتہ چند ہفتوں سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ امریکا کا ایک بحری بیڑا مشرق وسطیٰ میں موجود ہے اور ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ایران پر حملے کے لیے امریکا تیار، خواہشمند اور اہل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران جوہری معاہدہ کرے ورنہ اگلا حملہ پہلے سے کہیں زیادہ شدید ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ منصفانہ اور برابری کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم دھمکیوں کے سائے میں بات چیت ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں کسی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں ہوں گی۔

دوسری جانب امریکا نے احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات پر ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی سمیت متعدد اعلیٰ حکام اور پاسدارانِ انقلاب کے افسران پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان پابندیوں کا مقصد ان افراد کو جوابدہ ٹھہرانا ہے جن پر مظاہرین کے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔