عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق یہ خبر بنگلہ دیش کے معروف اخبار پروتھم آلو نے رپورٹ کی ہے۔ ڈھاکا میں جماعتِ اسلامی کے مرکزی دفتر کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب جوبائر کا کہنا تھا کہ بھولا، کومیلا اور ہاتیا اپازیلا میں علیحدہ علیحدہ واقعات میں جماعت کے حامیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بھولا میں جھڑپیں تاحال جاری ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمارے پولنگ ایجنٹس پر حملہ کیا گیا اور انہیں کاغذات کی تیاری کے دوران کام نہیں کرنے دیا گیا۔ تاہم انہوں نے حملوں کی نوعیت یا ذمہ داروں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
یہ وھی جماعت اسلامی بنگلہ دیش ھے جسے 1971 میں پاکستان کا ساتھ دینے کی پاداشت میں بھارت نواز بنگالی قوم پرستوں نے غدار کہا ۔۔۔جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے 11 مرکزی لیڈروں کو پھانسی ہوئی، 5 ہزار کارکنان معذور ہو گئے اور 30 ہزار کارکن کئی سال جیل میں رہے مگر ایک لیڈر یا کارکن نے pic.twitter.com/Yxy2ZZp1D7
— Sɑeedɑ Yɑsmin 🇸🇩 (@saeeda_yasmin) February 12, 2026
جوبائر نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے مؤثر تعاون فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو رہی ہے۔
دوسری جانب ان الزامات پر حکومتی یا انتظامی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔







