عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق  یہ خبر بنگلہ دیش کے معروف اخبار پروتھم آلو نے رپورٹ کی ہے۔ ڈھاکا میں جماعتِ اسلامی کے مرکزی دفتر کے باہر پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل احسان الحق محبوب جوبائر کا کہنا تھا کہ بھولا، کومیلا اور ہاتیا اپازیلا میں علیحدہ علیحدہ واقعات میں جماعت کے حامیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بھولا میں جھڑپیں تاحال جاری ہیں۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہمارے پولنگ ایجنٹس پر حملہ کیا گیا اور انہیں کاغذات کی تیاری کے دوران کام نہیں کرنے دیا گیا۔ تاہم انہوں نے حملوں کی نوعیت یا ذمہ داروں کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

جوبائر نے یہ بھی کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے مؤثر تعاون فراہم نہیں کیا جا رہا، جس کے باعث صورتحال مزید کشیدہ ہو رہی ہے۔

دوسری جانب ان الزامات پر حکومتی یا انتظامی حکام کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔