پارلیمنٹ ہاؤس کینبرا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انتھونی البانیز كا كہنا تھا کہ حکومت بڑھتے ہوئے ایندھن بحران سے نمٹنے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے اور ممکنہ صورتحال کے لیے مکمل تیاری کی جا رہی ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا کے تیل فراہم کرنے والے اہم ملک ملائیشیا اور آسیان خطے کے ساتھ مثبت روابط موجود ہیں، جو اس بحران سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
Prime Minister Anthony Albanese and Energy Minister Chris Bowen just held a press conference to announce they won’t address the fuel crisis until next week.
— Anthony Khallouf (@ausvstheagenda) March 27, 2026
They instead bragged about answering questions during QT while offering zero solutions. pic.twitter.com/59dXD4qHAJ
دوسری جانب وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و توانائی کرس بوون نے کہا کہ ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور تیل کی مجموعی فراہمی برقرار ہے، تاہم علاقائی علاقوں میں طلب میں اضافے کے باعث قلت کا سامنا ہے۔
حکومت کے مطابق ملک بھر کے تقریباً 470 پٹرول پمپس پر کم از کم ایک قسم کا ایندھن ختم ہو چکا ہے، جسے ایک سنگین مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر اپوزیشن رہنما اینگس ٹیلر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایندھن پر عائد ٹیکس کو عارضی طور پر تین ماہ کے لیے نصف کر دیا جائے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ اس صورتحال پر غور کے لیے پیر کو قومی کابینہ کا اجلاس بھی طلب کیا جائے گا۔







