میامی میں منعقدہ فیوچر انویسٹمنٹ سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے محمد الجدعان نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں پیدا ہونے والی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی نے عالمی معیشت کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، اس کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے اثرات مختلف ممالک کی معیشتوں پر نمایاں طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ جنگی ماحول اور بڑھتے ہوئے تنازعات نے نہ صرف عالمی تجارت کو متاثر کیا بلکہ تیل، گیس، کھاد اور دیگر اہم شعبوں کی منڈیوں میں بھی بے چینی پیدا کر دی ہے،ان بنیادی شعبوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث مہنگائی میں اضافے اور صنعتی پیداوار میں کمی جیسے مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات عالمی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکے ہیں اور اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں، عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ حالات کو قابو میں لانے اور استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔
محمد الجدعان نے اس موقع پر سعودی معیشت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مملکت اب بھی سرمایہ کاری کے لیے ایک پرکشش مرکز ہے اور حکومت معاشی استحکام اور ترقی کے لیے مؤثر پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔
مزید پڑھیں: سعودی عرب: یوکرینی صدر زیلنسکی کی اچانک آمد، فضائی دفاعی تعاون پر بات چیت
واضع رہے کہ سعودی وزیر خزانہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے اور سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو عالمی معیشت کو ایک اور بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جو کورونا وبا کے اثرات سے بھی زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے۔







