دوحہ فورم سے خطاب کرتے ہوئے قطر کے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال کو مکمل جنگ بندی نہیں کہا جا سکتا کیونکہ اسرائیلی افواج کا غزہ سے مکمل انخلا ابھی تک نہیں ہوا اور نہ ہی وہاں حالات معمول پر آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنگ بندی اُس وقت مکمل ہوگی جب اسرائیلی افواج پوری طرح واپس چلی جائیں اور غزہ میں استحکام اور آزادانہ نقل و حرکت بحال ہو۔
واضح رہے کہ قطر طویل عرصے سے غزہ جنگ کے حوالے سے ثالثی کے مرکزی کردار میں ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اگلے مرحلے کی طرف آگے بڑھنے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فدان نے بھی متنبہ کیا کہ اگر امریکا نے بروقت مداخلت نہ کی تو امن عمل کی رفتار ختم ہوسکتی ہے۔ ہمارے پاس وقت بہت کم ہے، دوسرا مرحلہ شروع نہ ہوا تو پورا عمل رک سکتا ہے۔
غزہ کی مقامی انتظامیہ کے مطابق جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی حملے مکمل طور پر نہیں رکے، اور صرف سات ہفتوں میں 600 سے زائد خلاف ورزیاں ہوئیں۔ ہفتہ کے روز بھی بیت لاہیا میں اسرائیلی حملے میں تین فلسطینی جاں بحق ہوئے۔
Negotiations on consolidating the US-backed truce in the war in Gaza are at a ‘critical’ moment, Qatari Prime Minister Sheikh Mohammed bin Abdulrahman al-Thani said https://t.co/HxwTSeHSTS pic.twitter.com/5z9HTqpgbN
— Reuters (@Reuters) December 6, 2025
غزہ حکام کے مطابق 10 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی کارروائیوں میں کم از کم 360 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 70 بچے بھی شامل ہیں۔
اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس کے فوجیوں نے صرف اُن عسکریت پسندوں کو نشانہ بنایا جو متعین ’یلو لائن‘ عبور کر گئے تھے، تاہم ڈرون حملے کی تردید کی گئی ہے۔
امریکی منصوبے کے تحت غزہ میں ایک بین الاقوامی سکیورٹی فورس، تکنوکریٹ پر مشتمل فلسطینی حکومت، حماس کا غیر مسلح ہونا اور اسرائیلی انخلاجیسے اقدامات شامل ہیں۔ تاہم سکیورٹی فورس کی تشکیل اور اس کے مینڈیٹ پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔
ترکی نے دعویٰ کیا کہ کئی مسلمان ممالک چاہتے ہیں کہ وہ اس فورس میں شامل ہو، لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ’ترک افواج کی موجودگی‘ کے سخت مخالف ہیں۔
مصر، قطر اور دیگر مسلم ممالک نے اسرائیل کے اس منصوبے کی مذمت کی ہے جس کے مطابق رفح کراسنگ صرف فلسطینیوں کے باہر جانے کے لیے کھولا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فلسطینی آبادی کو مستقل طور پر بے دخل کرنے کی کوشش ہے اور امریکی منصوبے کی روح کے منافی ہے۔
سعودی نمائندہ منال رضوان نے کہا کہ غزہ کو الگ بحران کے طور پر دیکھنا غلط ہے، اصل مسئلہ فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کا ہے، جسے حل کیے بغیر امن ممکن نہیں۔







