برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نیوز کے مطابق اس گرفتاری کے فوراََ بعد پولیس نے کئی ہوٹلوں اور لاجز پر چھاپے مارے اور ایسے ہوٹل مالکان کے خلاف مقدمے درج کیے جنھوں نے غیر ملکی سیاحوں کی لازمی اطلاع پولیس کو نہیں دی تھی۔
رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ 29 سالہ چینی شہری کے فون کی فرانزک جانچ سے معلوم ہوا کہ انھوں نے بعض حساس سکیورٹی تنصیبات اور آرٹیکل 370 کے بارے میں معلومات لینے کے لیے گوگل کا سہارا لیا۔
پولیس کے مطابق فون کی مزید باریکی سے جانچ ہو رہی ہے۔
واضح رہے کہ کشمیر کو نیم خود مختاری دینے والے انڈین آئین کے آرٹیکل 370 کو سنہ 2019 میں منسوخ کر کے کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام بنایا گیا اور لداخ کو اس سے الگ کر کے اسے بھی مرکز کے زیرانتظام خطہ قرار دیا گیا تھا۔
اس معاملے کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ چینی شہری کو ویزا انڈیا کے واراناسی، آگرہ، نئی دلی، جے پور، سرناتھ اور خوشی نگر میں چند بودھ مقدس مقامات پر جانے کے لیے دیا گیا تھا لیکن وہ 19 نومبر کو نئی دلّی سے براہ راست لداخ گئے اور اس سفر کے دوران انھوں نے فارن رجسٹریشن آفس میں لازمی اندراج بھی نہیں کروایا۔
پولیس کے مطابق وہ لداخ سے سرینگر پہنچے اور ایک غیر رجسٹرڈ گیسٹ ہاوس میں مقیم رہے۔
دوسری جانب چینی شہری نے پولیس کو بتایا ہے کہ وہ نو سال تک امریکہ میں بھی مقیم رہ چکے ہیں جس کے دوران انھوں نے بوسٹن یونیورسٹی میں علم طبعیات (فزکس) کی ڈگری بھی حاصل کر لی۔
انھوں نے پولیس کو بیان میں مزید کہا کہ میں پوری دنیا گھومنا چاہتا ہوں، مجھے علم نہیں تھا کہ مجھے کشمیر یا لداخ جانے کی اجازت نہیں۔
سرینگر میں قیام کے دوران انھوں نے یہاں کے مغل باغات اور جھیل ڈل کی سیر بھی کی۔
پولیس کی تحویل میں چینی شہری کے پاسپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے امریکہ، نیوزی لینڈ، برازیل، فِجی اور ہانگ کانگ کا سفر بھی کیا۔
پولیس اور دیگر تحقیقاتی ایجنسیاں چینی شہری کے سرحدی خطے لداخ میں زنسکر قصبہ کے دورے کی کئی زاویوں سے جانچ کر رہی ہیں۔
واضح رہے کہ لداخ چینی سرحد اور سیاچن کی وجہ سے انڈیا کے لیے تزویراتی اہمیت رکھتا ہے۔ سنہ 2020 میں انڈیا اور چین کا دیرینہ سرحدی تنازعہ شدید ہو گیا تھا جب چینی اور انڈین افواج کے درمیان یہاں جھڑپ ہوئی تھی۔






