غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ حملے دو روز قبل گاؤں تال کے قریب اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپ کے بعد کیے گئے، جس میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔
Israeli settlers continue to terrorise Palestinian communities across the occupied West Bank, setting fire to homes, vehicles and a mosque in another attack on civilians.
— Middle East Eye (@MiddleEastEye) July 26, 2026
Families were forced to flee as property was destroyed, leaving communities devastated and living in fear.… pic.twitter.com/eYt7ib5HJW
فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے بعد مغربی کنارے میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فلسطینیوں کے مطابق موجودہ اسرائیلی حکومت کے انتہا پسند دائیں بازو کے عناصر ایسے حملوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔
حکام کے مطابق گزشتہ رات مغربی کنارے کے دو دیہات پر حملوں کے دوران گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، لوٹ مار کی گئی اور عمارتوں کی دیواروں پر نفرت انگیز نعرے بھی تحریر کیے گئے۔
قصرہ کے میئر عبدالعظیم وادی نے بتایا کہ اسرائیلی آبادکاروں نے زیرِ تعمیر ایک مسجد کو نذرِ آتش کر دیا اور اس کی دیواروں پر ’بدلہ‘ سمیت نفرت انگیز الفاظ سپرے پینٹ سے لکھ دیے۔
Israeli settlers set fire to mosques, cars and farm land in West Bank, Palestinians say https://t.co/LJQguPw8iY
— BBC News (UK) (@BBCNews) July 26, 2026
دوسری جانب فلسطینی حکام کے مطابق ایک اور واقعے میں آبادکاروں نے کور نامی قصبے کی ایک مسجد کو بھی آگ لگا دی اور اس کی دیواروں پر اشتعال انگیز نعرے درج کیے۔
اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا ہے کہ قصرہ میں فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ پولیس واقعے کی تحقیقات اور شواہد جمع کر رہی ہے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز تال میں ہونے والی جھڑپ کے بعد مغربی کنارے کے مختلف دیہات میں آبادکاروں کی جانب سے متعدد حملے کیے جا چکے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج نے مغربی کنارے میں کارروائیاں کرتے ہوئے درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں انسدادِ دہشت گردی آپریشن کا حصہ ہیں۔
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے تال کے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے سخت اور مؤثر کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں، جن میں مبینہ طور پر واقعے میں ملوث دو فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔






