غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ حملے دو روز قبل گاؤں تال کے قریب اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپ کے بعد کیے گئے، جس میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ جھڑپ کے بعد مغربی کنارے میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فلسطینیوں کے مطابق موجودہ اسرائیلی حکومت کے انتہا پسند دائیں بازو کے عناصر ایسے حملوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں۔

حکام کے مطابق گزشتہ رات مغربی کنارے کے دو دیہات پر حملوں کے دوران گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، لوٹ مار کی گئی اور عمارتوں کی دیواروں پر نفرت انگیز نعرے بھی تحریر کیے گئے۔

قصرہ کے میئر عبدالعظیم وادی نے بتایا کہ اسرائیلی آبادکاروں نے زیرِ تعمیر ایک مسجد کو نذرِ آتش کر دیا اور اس کی دیواروں پر ’بدلہ‘ سمیت نفرت انگیز الفاظ سپرے پینٹ سے لکھ دیے۔

دوسری جانب فلسطینی حکام کے مطابق ایک اور واقعے میں آبادکاروں نے کور نامی قصبے کی ایک مسجد کو بھی آگ لگا دی اور اس کی دیواروں پر اشتعال انگیز نعرے درج کیے۔

اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا ہے کہ قصرہ میں فوجی دستے تعینات کر دیے گئے ہیں جبکہ پولیس واقعے کی تحقیقات اور شواہد جمع کر رہی ہے۔

فلسطینی ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز تال میں ہونے والی جھڑپ کے بعد مغربی کنارے کے مختلف دیہات میں آبادکاروں کی جانب سے متعدد حملے کیے جا چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی دفاعی افواج نے مغربی کنارے میں کارروائیاں کرتے ہوئے درجنوں فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائیاں انسدادِ دہشت گردی آپریشن کا حصہ ہیں۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نیتن یاہو نے تال کے واقعے پر ردِعمل دیتے ہوئے سخت اور مؤثر کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں، جن میں مبینہ طور پر واقعے میں ملوث دو فلسطینیوں کے گھروں کو مسمار کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔