اپنے ایک اہم بیان میں پوپ لیو کا کہنا تھا کہ حالیہ عرصے میں مقدس مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہے بلکہ بنیادی انسانی اقدار کے بھی منافی ہے،کسی بھی مقصد یا مفاد کے لیے معصوم انسانوں کا خون بہانا کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ، طاقت کے حصول کی خواہش اور ذاتی مفادات کی دوڑ نے دنیا کے کئی خطوں میں مقدس مقامات کو بھی محفوظ نہیں رہنے دیا،عبادت گاہیں ہمیشہ امن، سکون اور روحانی تحفظ کی علامت سمجھی جاتی رہی ہیں، مگر افسوس کہ اب وہ بھی تشدد کی لپیٹ میں آ رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمزور افراد، بچوں اور بے گناہ خاندانوں کی جانیں کسی بھی سیاسی یا معاشی فائدے سے زیادہ قیمتی ہیں۔ “کوئی بھی مفاد انسانی زندگی سے بڑھ کر نہیں ہو سکتا”، پوپ لیو نے اپنے بیان میں اس بات کو خاص طور پر اجاگر کیا۔

روحانی پیشوا نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے، اور ایسے عناصر کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اپنائی جائے جو مذہب اور انسانیت کے نام پر خونریزی کو فروغ دے رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اس رجحان کو نہ روکا گیا تو اس کے اثرات نہ صرف مذہبی ہم آہنگی بلکہ عالمی امن پر بھی منفی مرتب ہوں گے، وقت آ گیا ہے کہ دنیا بھر کے رہنما، مذہبی شخصیات اور ادارے مل کر امن، برداشت اور انسانیت کے فروغ کے لیے کردار ادا کریں۔

پوپ لیو کے بیان کو عالمی سطح پر اہم قرار دیا جا رہا ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے مختلف خطوں میں مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے کے واقعات پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔