عرب نیوز اور دیگر خبر رساں اداروں کے مطابق منگل کی شام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کو اس شرط پر مؤخر کرنے کے لیے تیار ہیں کہ ایران جنگ بندی پر آمادہ ہو اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دے۔ اس سے قبل دن کے اوائل میں انہوں نے سخت لہجے میں خبردار کیا تھا کہ ’آج رات ایک پوری تہذیب ختم ہو سکتی ہے۔‘
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے ایرانی اور امریکی وفود کو جمعے کے روز اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے تاکہ اس پیش رفت کو آگے بڑھایا جا سکے۔
عراق کی وزارت خارجہ نے اس جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ سنجیدہ اور پائیدار مذاکرات کی طرف بڑھیں۔ وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ ایسے مذاکرات ضروری ہیں جو تنازع کی بنیادی وجوہات کو حل کریں اور باہمی اعتماد کو مضبوط بنائیں۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے بھی اس پیش رفت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ بات چیت کے ذریعے تنازع کے حل میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان، مصر، ترکیہ اور سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کے کردار کو سراہا اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
مصر کی وزارت خارجہ نے بھی ایک بیان میں جنگ بندی کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے خطے میں خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا۔ بیان میں خلیجی تعاون کونسل کے ممالک اور اردن کی سلامتی کو خطے کے استحکام کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن دوجارک کے مطابق سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے اس جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور دیرپا امن کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔
دوسری جانب عالمی منڈیوں میں بھی اس پیش رفت کا مثبت اثر دیکھا گیا ہے۔ بدھ کے روز تیل کی قیمتوں میں کمی جبکہ سٹاک مارکیٹس میں بہتری ریکارڈ کی گئی، کیونکہ اس معاہدے کے تحت ایران آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر دوبارہ کھولنے پر آمادہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ ایران کو امریکی صدر کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ڈیڈ لائن دی گئی تھی، جس کے اختتام سے قبل پاکستان کی ثالثی میں دونوں ممالک اس عارضی معاہدے تک پہنچے۔ بعد ازاں ایران نے بھی اس اہم آبی گزرگاہ کے محفوظ استعمال کو یقینی بنانے پر رضامندی ظاہر کی۔
آبنائے ہرمز کو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا بھر میں ہونے والی تیل کی تجارت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا ہے۔







