سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مذاکرات سے قبل ہی ایران نے واضح کر دیا تھا کہ وہ مثبت نیت کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، لیکن دو سابقہ جنگوں کے تجربات کی وجہ سے مخالف فریق پر مکمل بھروسہ ممکن نہیں رہا۔ ان کے مطابق ایرانی وفد نے مذاکرات کے دوران مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے تعمیری اور مثبت تجاویز پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ ذمہ داری امریکا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ ایران کا اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سفارتکاری کو اپنی طاقت کا ایک اہم ستون سمجھتا ہے، جسے عسکری صلاحیت کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران اپنی دفاعی کامیابیوں کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کسی بھی مرحلے پر کوششیں ترک نہیں کرے گا۔
انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکراتی عمل میں سہولت کاری پر اپنے برادر اور دوست ملک پاکستان کا شکر گزار ہے اور پاکستانی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک مضبوط قوم ہے جس کی آبادی تقریباً نو کروڑ ہے اور جس نے سپریم لیڈر کی قیادت میں بھرپور یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ ان کے مطابق عوامی حمایت نے مذاکراتی وفد کو حوصلہ دیا، جبکہ 21 گھنٹے طویل مذاکرات میں شریک ٹیم کی کوششیں قابل تعریف ہیں۔
اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے ایران کی سلامتی اور استحکام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کاوشیں جاری رکھی جائیں گی۔







