امریکی صدر نے اتوار کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل" پر جاری بیان میں کہا کہ برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر اپنے عہدے سے الگ ہونے والے ہیں، موجودہ برطانوی حکومت اہم قومی معاملات بالخصوص امیگریشن اور توانائی کے شعبے میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ کیئر اسٹارمر کی حکومت غیرقانونی امیگریشن کے مسئلے پر مؤثر حکمت عملی پیش نہیں کرسکی، جبکہ توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے، خاص طور پر شمالی سمندر میں موجود تیل اور گیس کے ذخائر سے متعلق حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دستیاب وسائل سے فائدہ نہ اٹھانا ایک بڑی پالیسی ناکامی تصور کی جا رہی ہے۔
امریکی صدر نے اپنی پوسٹ کے اختتام پر کیئر اسٹارمر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا، تاہم ان کا یہ بیان عالمی سیاسی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔
دوسری جانب برطانوی سیاسی منظرنامے میں بھی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے مستقبل کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں، حکمران لیبر پارٹی کے اندر قیادت سے متعلق بحث تیز ہوگئی ہے اور بعض حلقے وزیراعظم پر زور دے رہے ہیں کہ وہ اپنی آئندہ سیاسی حکمت عملی اور ممکنہ استعفے کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کریں۔
میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ کیئر اسٹارمر پیر کے روز اپنی سیاسی پوزیشن سے متعلق اہم اعلان کر سکتے ہیں، وہ ممکنہ طور پر لیبر پارٹی کی آئندہ قیادت کے انتخاب کے لیے ایک روڈمیپ بھی پیش کر سکتے ہیں تاکہ پارٹی کے اندر قیادت کی منتقلی کا عمل منظم انداز میں آگے بڑھ سکے۔
یاد رہے کہ لیبر پارٹی کے متعدد ارکان پارلیمنٹ گزشتہ کچھ عرصے سے قیادت میں تبدیلی کے حق میں آواز اٹھا رہے ہیں، پارٹی کو آئندہ سیاسی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نئی حکمت عملی اور متحرک قیادت کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا پھر سے اطالوی وزیراعظم پر طنزیہ وار، میلونی مقبولیت بڑھانے کے لیے دوبارہ دوستی چاہتی ہیں
برطانوی ذرائع ابلاغ کے مطابق اینڈی برنہم کی سیاسی مقبولیت اور پارٹی کے اندر بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ نے بھی قیادت سے متعلق بحث کو مزید تقویت دی ہے، لیبر پارٹی کے ایک بڑے حلقے کی حمایت اینڈی برنہم کو حاصل ہوتی جا رہی ہے، جس کے باعث موجودہ قیادت پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔
واضح رہے کہ اگر کیئر اسٹارمر اپنے عہدے سے مستعفی ہوتے ہیں تو یہ برطانوی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے اور حکمران جماعت کو نئی قیادت کے انتخاب سمیت کئی بڑے فیصلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم تاحال وزیراعظم ہاؤس یا لیبر پارٹی کی جانب سے استعفے کی خبروں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ اب کیئر اسٹارمر کے ممکنہ بیان اور لیبر پارٹی کی آئندہ حکمت عملی پر مرکوز ہیں، جس سے برطانیہ کی سیاسی سمت کے بارے میں مزید وضاحت سامنے آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔







