ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں کہا کہ امریکہ اپنے اہداف کے قریب پہنچ چکا ہے اور اسی تناظر میں مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی سرگرمیوں کو سمیٹنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ان کا یہ بیان اب تک کا واضح ترین اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کہ وہ 28 فروری سے جاری کشیدگی کو جلد ختم کرنے کے خواہاں ہو سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران سے متعلق امریکی حکمت عملی کے تحت کئی اہم مقاصد حاصل کرنا تھے، جن میں ایران کی میزائل صلاحیت اور لانچنگ نظام کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانا، دفاعی صنعتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا، اور اس کی بحری و فضائی طاقت کو کمزور کرنا شامل ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری صلاحیت کے قریب نہیں آنے دیا جائے گا اور امریکہ ہر ممکن صورتحال میں فوری اور مؤثر ردعمل دینے کی پوزیشن میں رہے گا۔

ٹرمپ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادی ممالک، جن میں اسرائیل، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت شامل ہیں، کو مکمل تحفظ فراہم کرنا بھی ترجیحات میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کی ذمہ داری بنیادی طور پر ان ممالک پر عائد ہونی چاہیے جو اس گزرگاہ کو استعمال کرتے ہیں، جبکہ امریکہ ضرورت پڑنے پر معاونت فراہم کر سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران سے لاحق خطرہ ختم ہونے کے بعد ایسی کارروائیوں کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔