وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار نے كہا ہے كہ خطے میں روایتی شپنگ روٹس متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث عالمی تجارتی کمپنیاں محفوظ متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں اور اسی تناظر میں گوادر بندرگاہ ایک قابلِ اعتماد آپشن کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

حالیہ دنوں میں ایم وی ایچ ایم او لیڈر نامی جہاز کی کامیاب برتھنگ اور 35 یونٹس ٹرانس شپمنٹ کارگو کی ہینڈلنگ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ گوادر عملی طور پر عالمی تجارتی سرگرمیوں میں اپنا کردار بڑھا رہا ہے۔

خطے میں کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز، جو دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی کا مرکزی راستہ ہے، خطرات کی زد میں آ چکی ہے۔ اسی طرح باب المندب کے قریب بھی سیکیورٹی خدشات بڑھنے سے جہاز رانی متاثر ہو رہی ہے۔

اس صورتحال میں کئی شپنگ کمپنیاں اپنے روٹس تبدیل کرنے پر مجبور ہو رہی ہیں، جس سے عالمی تجارتی نظام میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔


گوادر بندرگاہ جغرافیائی لحاظ سے ایک اسٹریٹیجک مقام پر واقع ہے۔ خلیجی خطے کے قریب ہونے کے باوجود یہ براہِ راست جنگی علاقوں سے دور ہے، جس کی وجہ سے اسے ایک محفوظ بحری مرکز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

عالمی شپنگ کمپنیاں اب ایسے راستوں کی تلاش میں ہیں جہاں خطرات کم ہوں، وقت اور لاگت کی بچت ہو اور ترسیل کا تسلسل برقرار رہے۔ ان تمام عوامل کی بنیاد پر گوادر ایک مؤثر متبادل کے طور پر ابھر رہا ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق گوادر پر ٹرانس شپمنٹ کارگو کے لیے مفت اسٹوریج کی سہولت بھی فراہم کی جا رہی ہے، جو بین الاقوامی تاجروں کے لیے ایک بڑا معاشی فائدہ ہے۔

اگر حاصل ہونے والے فوائدكی بات كی جائے تو سب سے پہلے یہ كہ گوادر کے ذریعے کارگو ہینڈلنگ بڑھنے سے پاکستان خطے کا اہم تجارتی گیٹ وے بن سکتا ہے۔

بندرگاہی فیس، اسٹوریج اور لاجسٹکس سروسز سے معیشت کو براہِ راست فائدہ ہوگا۔ بندرگاہی سرگرمیوں کے پھیلاؤ سے مقامی سطح پر روزگار میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان وسطی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک اہم تجارتی پل بن سکتا ہے۔

ان كے علاوہ  چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت گوادر کی اہمیت مزید بڑھ جائے گی، جس سے انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔


جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی نے دنیا بھر کی معیشتوں کو متاثر کیا ہے، لیکن ایسے حالات میں جو ممالک متبادل راستے فراہم کرتے ہیں وہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ پاکستان کے لیے گوادر اسی موقع کی نمائندگی کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو بندرگاہی سہولیات کو مزید بہتر بنانا ہوگا، سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہوگا اور عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد حاصل کرنا ہوگا۔

مشرقِ وسطیٰ کی جنگ جہاں عالمی معیشت کے لیے بحران بن چکی ہے، وہیں پاکستان کے لیے ایک موقع بھی ہے۔

اگر گوادر بندرگاہ کو مؤثر حکمت عملی کے ساتھ استعمال کیا گیا تو یہ نہ صرف موجودہ بحران سے فائدہ اٹھا سکتی ہے بلکہ پاکستان کو طویل مدت میں ایک بڑے تجارتی مرکز کے طور پر بھی مستحکم کر سکتی ہے۔