اسی دوران سعودی عرب کی وزارت دفاع نے جمعہ کو بتایا کہ ریاض کی جانب چھ بیلسٹک میزائل داغے گئے جن میں سے دو کو مار گرایا گیا جبکہ چار دیگر میزائل خلیج عرب اور غیر آباد علاقوں میں گرے،ان میزائل حملوں سے جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم خطرے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات کیے گئے۔

کویت نے بھی جمعہ کو اپنی بندرگاہوں پر حملوں کی تصدیق کی۔ کویت کی وزارت پبلک ورکس کے مطابق شوائیخ میں اس کی مرکزی تجارتی بندرگاہ کو دشمن نے ڈرونز اور کروز میزائلز سے دوہرے حملے کا نشانہ بنایا، جس سے بندرگاہ کو نقصان پہنچا لیکن کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ اس حملے کے بعد پورٹ پر ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو فرانس میں جی سیون ممالک کے اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں، جہاں ایران کے خلاف مذاکرات اور عالمی سطح پر کشیدگی کم کرنے کے اقدامات پر بات چیت متوقع ہے۔ روبیو نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا تمام جی سیون ممالک کے مفاد میں ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے رکن ممالک بشمول برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی کو ایران کے تنازع میں امریکی موقف کے ساتھ تعاون نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے بھی کہا کہ نیٹو ممالک کو ایران کے بارے میں امریکہ کے ساتھ مشترکہ موقف اپنانا ضروری ہے تاکہ عالمی تجارتی راہداریاں محفوظ رہیں۔

دوسری جانب، اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران میں یزد کے مقام پر ایک بنیادی تنصیب کو نشانہ بنایا ہے، جہاں ایرانی بحریہ میزائل اور سمندری بارودی سرنگیں تیار کرتی ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ایران کے پاس ہزاروں بارودی سرنگیں موجود ہیں، جن کی موجودگی تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ ہے اور یہ آبنائے ہرمز کو مؤثر طور پر بند کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔

واضع رہے کہ حالیہ کشیدگی خلیج اور مشرق وسطیٰ میں تیل، گیس اور تجارتی راستوں کی حفاظت پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے، اور ایران کے خطرات کے پیش نظر امریکہ اور اتحادی ممالک کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ مل کر خطے میں استحکام قائم کریں۔