برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق معاملے سے آگاہ ذرائع نے بتایا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے واضح کر دیا ہے کہ اس وقت وہ مذاکرات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر اہلکار نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ نے بات چیت شروع کرنے کی کوششوں کو رد کر دیا ہے اور وہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مزید کمزور کرنے کے لیے جنگ جاری رکھنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
اہلکار کے مطابق صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس وقت مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں اور امریکی مشن بغیر رکے جاری رہے گا۔ ان کے بقول ممکن ہے کسی وقت بات چیت ہو جائے، مگر فی الحال ایسا کوئی ارادہ نہیں۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اور سینئر اہلکار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران میں ممکنہ نئی قیادت نے مذاکرات کی خواہش کا اشارہ دیا ہے اور بالآخر بات چیت ہو سکتی ہے، تاہم فی الحال فوجی کارروائی بلا تعطل جاری رکھی جائے گی۔
جنگ کے پہلے ہفتے میں صدر ٹرمپ نے اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر لکھا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے ایران کی قیادت اور فوج اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ مذاکرات چاہتے ہیں، لیکن اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی میں اچانک تبدیلیاں آتی رہتی ہیں، جس کے باعث یہ اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ سفارتی مذاکرات کی طرف جائیں گے یا نہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی واضح کر دیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے بند ہونے تک کسی بھی جنگ بندی یا مذاکرات کا امکان نہیں ہے۔ دو سینئر ایرانی ذرائع کے مطابق کئی ممالک اس تنازع کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں کر رہے ہیں۔
عمان، جو اس جنگ سے پہلے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا تھا، کئی مرتبہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کر چکا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق واشنگٹن اور تہران دونوں کی جانب سے مذاکرات میں عدم دلچسپی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریق طویل جنگ کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔ اس دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔







