سی این این کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں نائیجیریا میں مسیحی برادری کے خلاف ہونے والے ’قتلِ عام‘ پر سخت تنقید کی اور لکھا کہ امریکا فوراً نائیجیریا کو دی جانے والی تمام امداد اور تعاون بند کر دے گا اور وہاں کی حکومت کو فوری طور پر قدم اٹھانے کی وارننگ دی گئی ہے۔
اپنے طویل پیغام میں ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے امریکا اب اس بدنام شدہ ملک میں بھرپور ہتھیاروں کے ساتھ داخل ہو جائے تاکہ وہ دہشت گردوں کو مکمل طور پر ختم کر دے جو یہ ہولناک مظالم کر رہے ہیں۔
نائیجیریا میں مسیحی اور مسلمان دونوں شدت پسند حملوں کے شکار رہے ہیں۔ دو کروڑ تیس لاکھ سے زائد آبادی والے اس ملک میں تشدد کے اسباب مختلف ہیں۔ بعض واقعات مذہبی بنیادوں پر ہوتے ہیں اور دونوں گروہوں کو متاثر کرتے ہیں جبکہ کئی جھڑپیں کاشتکاروں اور چرواہوں کے درمیان محدود وسائل کے تنازع، کمیونٹی اور نسلی کشیدگیوں سے جنم لیتی ہیں۔
مقامی رپورٹس کے مطابق اگرچہ مسیحی برادری کو نشانہ بنایا جاتا ہے، مگر زیادہ تر متاثرین ملک کے مسلم اکثریتی شمالی حصوں میں رہنے والے مسلمان ہوتے ہیں۔ ٹرمپ نے لکھا کہ میں اپنے محکمہ جنگ کو ممکنہ کارروائی کی تیاری کرنے کا حکم دے رہا ہوں اور اگر ہم حملہ کریں گے تو وہ تیز، بے رحم اور ’مزے دار‘ ہوگا، بالکل ویسے ہی جیسے دہشت گرد ہمارے عزیز مسیحیوں پر حملہ کرتے ہیں۔ انہوں نے نائیجیریا کی حکومت کو تیزی سے حرکت کرنے کی نصیحت کی۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہِیگسیتھ نے ٹرمپ کے بیان کی اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر مختصراً لکھا ’ہاں سر۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ معصوم مسیحیوں کا قتل فوری طور پر بند ہونا چاہیے اور وار ڈپارٹمنٹ کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔ یا تو نائیجیریا کی حکومت مسیحیوں کی حفاظت کرے یا ہم ان دہشت گردوں کو ختم کر دیں گے جو یہ مظالم کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے اس اعلان سے ایک روز قبل انہوں نے نائیجیریا پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسیحیت نائیجیریا میں وجودی خطرے کا سامنا کر رہی ہے اور اس ملک کو بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ کے تحت ’خاص تشویش والے ملک‘ کا درجہ دیا گیا تھا۔ اس درجہ بندی کا مطلب یہ ہے کہ ان کی انتظامیہ کا موقف ہے کہ نائیجیریا کی حکومت مذہبی آزادی کے سنگین اور جاری خلاف ورزیوں میں ملوث ہے یا ان پر خاموش ہے۔
نائیجیریا کے صدر بولا احمد ٹنوبو نے ایک سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ نائیجیریا کو مذہبی عدم برداشت والا ملک قرار دینا ہماری قومی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتا اور اس میں حکومت کی مسلسل اور مخلصانہ کوششوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام نائیجیریائیوں کے مذہبی حقوق کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے اور امریکی حکومت اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر تمام مذاہب کی کمیونیٹیز کے تحفظ پر تعاون بڑھا رہا ہے۔
ٹنوبو کے پریس سیکریٹری نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس بیان کے جواب میں جس میں ’ہزاروں مسیحیوں کے قتلِ عام‘ کی مذمت کی گئی تھی، نائیجیریا کی صورتِ حال کو شدید مبالغہ آرائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسیحی، مسلمان، چرچ اور مسجد سب کو بے ترتیب طور پر حملوں کا سامنا ہے۔
بایو اونانگا نے کہا کہ ہمارے ملک کو امریکا سے درکار چیز فوجی طبی مدد یا پرتشدد انتہا پسندوں سے لڑنے کے لیے عسکری امداد ہے، نہ کہ ’خاص تشویش والے ملک‘ کا درجہ۔
وائٹ ہاؤس اور ٹنوبو کے دفتر کے ترجمانوں نے فوری تبصرے کے لیے درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔







