برکس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ یکجہتی کے پیشِ نظر انہوں نے متحدہ عرب امارات کا نام نہیں لیا، تاہم جب ایران پر حملے شروع ہوئے تو متحدہ عرب امارات نے ان حملوں کی مذمت تک نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ ایران سے متعلق متحدہ عرب امارات کو اپنی پالیسی پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ امریکا کی غنڈہ گردی کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی غنڈہ گردی کے خلاف مزاحمت کوئی نئی جنگ نہیں، بلکہ دنیا کی کئی اقوام مختلف شکلوں میں اس جبر کا سامنا کرتی رہی ہیں۔
عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ تمام ممالک مشترکہ طور پر آگے بڑھیں، کیونکہ غنڈہ گردی کا یہ عمل تاریخ کے کوڑے دان میں ڈالے جانے کے قابل ہے۔ ان کے بقول آج ممالک پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے کے قریب ہیں اور اس مشترکہ اور خطرناک چیلنج کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ زوال پذیر سلطنتیں اپنے انجام کو روکنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔
Iranian Foreign Minister Seyyed Araghchi has said that the United Arab Emirates (UAE) was directly involved in the US and Israeli act of aggression against Iran and there is no doubt about it.https://t.co/CJRvGXqeyn
— Mehr News Agency (@MehrnewsCom) May 14, 2026
یاد رہےکہ گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا اور اماراتی صدر سے ملاقات کی تاہم یو اے ای نے ایران جنگ کے دوران اسرائیلی وزیراعظم کے دورہ امارات کی تر دید کر دی۔






