ابوظہبی حکومت کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا کہ الظفرہ ریجن میں واقع براکہ جوہری پاور پلانٹ کے حفاظتی حصار کے بیرونی حصے میں نصب ایک الیکٹریکل جنریٹر میں آگ لگ گئی، جو ڈرون حملے کے باعث بھڑکی۔

بیان کے مطابق واقعے میں کسی شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی، جب کہ جوہری پاور پلانٹ سے کسی قسم کے ریڈیائی اثرات بھی مرتب نہیں ہوئے۔

حکام نے بتایا کہ صورتحال پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے اور تمام ضروری حفاظتی اقدامات کیے جا چکے ہیں۔ مزید تفصیلات سامنے آنے پر عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات کی فیڈرل اتھارٹی فار نیوکلیئر ریگولیشن (ایف اے این آر) نے بھی تصدیق کی ہے کہ آتشزدگی سے پاور پلانٹ کے مرکزی یا حفاظتی نظام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور تمام یونٹس معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔

ابوظہبی حکام نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ معلومات صرف سرکاری ذرائع سے حاصل کریں اور غیر مصدقہ خبروں یا افواہوں سے گریز کریں۔

دوسری جانب بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے متحدہ عرب امارات کے جوہری بجلی گھر کے قریب ڈرون حملے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

آئی اے ای اے نے بھی تصدیق کی ہے کہ بجلی گھر کے اطراف میں تابکاری کی سطح معمول کے مطابق ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان 8 اپریل کو ہونے والی جنگ بندی کے باوجود متحدہ عرب امارات پر ڈرون حملوں کے واقعات وقفے وقفے سے جاری ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جنگ کے آغاز میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ خلیجی ممالک میں قائم امریکی اڈوں اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے، تاہم متحدہ عرب امارات میں نسبتاً زیادہ حملوں کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔

متحدہ عرب امارات نے گزشتہ ہفتے بھی ایران پر فجیرہ بندرگاہ پر میزائل اور ڈرون حملوں کا الزام عائد کیا تھا، جس کے نتیجے میں تین بھارتی شہری زخمی ہوئے تھے، جب کہ فجیرہ پیٹرولیم انڈسٹریز زون میں واقع آئل ریفائنری میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔