ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جرمن زبان میں بیان دیتے ہوئے جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس پر دوغلے پن کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات، جو عالمی جوہری ادارے کی نگرانی میں ہیں، پر حملوں کی نہ صرف مذمت نہیں کی جاتی بلکہ انہیں جواز بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
تاہم جب کوئی ایسا واقعہ پیش آتا ہے جسے انہوں نے ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دیا اور جس کی ذمہ داری خود امارات نے بھی ایران پر عائد نہیں کی، تو وہی حلقے اچانک بین الاقوامی قانون اور علاقائی سلامتی کی بات کرنے لگتے ہیں۔
اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ اگر جوہری تنصیبات پر حملہ واقعی خطے کے عوام کے لیے خطرہ ہے تو یہ اصول سب پر یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے، نہ کہ صرف اس وقت جب مغربی ممالک کے سیاسی مفادات وابستہ ہوں۔
Herr Friedrich Merz,
— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) May 18, 2026
Die Heuchelei ist offensichtlich. Offene Angriffe der Vereinigten Staaten und des israelischen Regimes auf die gesicherten Atomanlagen des Iran stoßen nicht auf Verurteilung, sondern auf Ausreden und Rechtfertigungen. Wenn jedoch eine mutmaßliche… pic.twitter.com/fj16LaCb5f
دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرِش میرٹس نے ایک روز قبل ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک پر مبینہ فضائی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ جوہری تنصیبات پر حملے پورے خطے کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
یاد رہے کہ اتوار کے روز متحدہ عرب امارات نے بتایا تھا کہ ابوظہبی کے قریب واقع براکہ جوہری پلانٹ کے باہر ایک ڈرون حملے میں بجلی کے جنریٹر میں آگ لگ گئی تھی۔
اماراتی حکام نے اپنے بیان میں کسی ملک کا نام نہیں لیا تھا بلکہ صرف یہ کہا تھا کہ ڈرون مغربی سرحد کی جانب سے داخل ہوا۔






