نجی انگلش اخبار ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق اراکان آرمی کے ترجمان خائن تھو کھا کے مطابق مراؤک یو ٹاؤن شپ میں واقع اسپتال کو بدھ کی شب ایک فوجی طیارے سے گرائے گئے بموں سے نشانہ بنایا گیا۔
ترجمان نے عالمی خبرساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ مراؤک یو جنرل اسپتال مکمل طور پر تباہ ہو گیا ہے۔ ہلاکتیں زیادہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اسپتال کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔
Junta air strikes kill at least 31 people and wound 70 others at major hospital in Myanmar s western Rakhine State pic.twitter.com/AsUYDU2FMr
— TRT World Now (@TRTWorldNow) December 11, 2025
حملے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں تباہ شدہ عمارت اور جلتی ہوئی گاڑیاں واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق میانمار کی فوجی حکومت (جنتا) کے ترجمان نے اس واقعے پر تبصرے کے لیے کی گئی کالز کا جواب نہیں دیا۔
یاد رہے کہ میانمار 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد سے شدید خانہ جنگی کا شکار ہے، جب فوج نے آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر احتجاجی تحریک کو کچل دیا تھا۔ ریاست رخائن میں حالیہ ہفتوں کے دوران جھڑپوں میں تیزی آئی ہے جس کے باعث صحت کی سہولیات بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔
A Myanmar military air strike killed more than 30 people at a hospital, an aid worker said Thursday, as the junta wages a withering offensive ahead of elections beginning this month https://t.co/cv329fLNFA pic.twitter.com/6FTRfZKx3O
— AFP News Agency (@AFP) December 11, 2025
امدادی کارکن وائی ہن آنگ کے مطابق، حملے کے وقت 300 بستروں کا یہ اسپتال مریضوں سے مکمل طور پر بھرا ہوا تھا کیونکہ لڑائی کی وجہ سے علاقے میں تقریباً تمام طبی خدمات معطل تھیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اسپتال پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی جنگی جرم کے زمرے میں آ تی ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کی سائٹ ایکس پر لکھاکہ میں رخائن کے اسپتال پر حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں۔ میانمار میں تشدد اور خوف کی نئی لہر انتہائی تشویش ناک ہے اور ساتھ ہی انہوں نے فوری اور جامع تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔






