برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نیوز کے مطابق ’ایل مینچو‘ کے نام سے معروف نیمیسیو اوسیگیرا سروانتیس کا تعلق بدنامِ زمانہ ہالیسکو نیو جنریشن کارٹیل (سی جے این جی) سے تھا۔ اطلاعات کے مطابق وہ سنیچر کے روز فوج اور اپنے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں شدید زخمی ہوا اور بعد ازاں دم توڑ گیا۔
میکسیکو کی وزارتِ دفاع کے مطابق اس آپریشن میں سی جے این جی کے چار ارکان بھی مارے گئے، جب کہ فوج کے تین اہلکار زخمی ہوئے۔ بعد ازاں ملک بھر میں تشدد کی لہر پھیل گئی اور نیشنل گارڈ کے 25 اہلکار کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
Cartel reprisals for the killing of drug lord Nemesio “El Mencho” Oseguera killed at least 25 Mexican National Guard soldiers, a prison guard, a state official, and a civilian, according to the country’s security secretary. pic.twitter.com/YFRonltQKz
— Al Jazeera English (@AJEnglish) February 23, 2026
ایل مینچو کی ہلاکت کے ردِعمل میں کم از کم ایک درجن ریاستوں میں سڑکیں بلاک کی گئیں اور متعدد گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا گیا ہے۔
اتوار کو ہالیسکو اور دیگر علاقوں سے اطلاعات موصول ہوئیں کہ مسلح افراد سڑکوں پر گشت کرتے دکھائی دیے۔ عینی شاہدین نے کئی شہروں میں دھواں اٹھتے دیکھا، جن میں گوادالاہارا بھی شامل ہے، جہاں آئندہ فیفا ورلڈ کپ کے میچز منعقد ہونا ہیں۔
ہالیسکو کے گورنر پابلو لیمس نوارو نے ریاست میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ معطل کر دی گئی ہے، عوامی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، جب کہ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز شروع کر دی گئی ہیں۔
👀🤯In Mexico, law enforcement officers eliminated one of the most wanted drug lords in the country, "El Mencho"
— Gianl1974 (@Gianl1974) February 23, 2026
This led to large-scale riots in several states, organized by members of the "Jalisco Nueva Generación" cartel. They are setting cars on fire and blocking roads. pic.twitter.com/OW6yFiyWjH
امریکا میں بی بی سی کے شراکت دار چینل سی بی ایس نیوز کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 250 سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جن میں سے 65 صرف ہالیسکو میں تھیں۔ میکسیکو کی سکیورٹی کابینہ کے مطابق ان میں سے چار رکاوٹیں اب بھی فعال ہیں۔
کابینہ نے بتایا کہ 25 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں 11 کو پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے اور 14 کو مبینہ لوٹ مار اور توڑ پھوڑ کے الزام میں حراست میں لیا گیا۔ حکام کے مطابق کئی دکانوں کو نذرِ آتش کیا گیا اور تقریباً 20 بینکوں پر حملے کیے گئے۔
میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے کہا ہے کہ ریاستی اور وفاقی حکام کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پُرسکون رہیں اور مستند معلومات پر انحصار کریں۔ ان کے بقول ملک کے بیشتر حصوں میں معمولاتِ زندگی جاری ہیں۔
صورتحال کے پیشِ نظر ایئر کینیڈا، یونائیٹڈ ایئرلائنز اور امریکن ایئرلائنز سمیت متعدد فضائی کمپنیوں نے متاثرہ شہر کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
Breaking News 🚨
— Sundayikale (@sundayikale) February 23, 2026
Unrest in Mexico after the assassination of a popular drug lord which has led to major riots and increased fighting in some parts of Mexico.
Pray for Mexico🙏 pic.twitter.com/r0DJLCHnIq
امریکا نے اپنے شہریوں کو ہالیسکو، تاماولیپاس، مچواکان کے بعض علاقوں، گوریرو اور نویو لیون میں محتاط رہنے اور محفوظ مقامات پر قیام کی ہدایت کی ہے، جب کہ برطانوی حکومت نے بھی ہالیسکو میں سنگین سکیورٹی واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے مسافروں کو انتہائی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
امریکا نے ایل مینچو کی گرفتاری کے لیے آپریشن میں انٹیلی جنس معاونت فراہم کی تھی۔ امریکی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ وہ امریکا میں فینٹینیل کی سمگلنگ کرنے والے بڑے کارٹیل رہنماؤں میں شامل تھے اور دونوں ممالک کی حکومتوں کو مطلوب تھے۔ ان کے مطابق کارروائی کے دوران تین کارٹیل ارکان ہلاک، تین زخمی اور دو گرفتار ہوئے۔
59 سالہ سابق پولیس افسر ایل مینچو ایک وسیع منشیات سمگلنگ نیٹ ورک چلاتے تھے، جو امریکا میں کوکین، میتھامفیٹامین اور فینٹینیل کی بڑی مقدار سمگل کرتا تھا۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ان کی گرفتاری میں مدد دینے والی معلومات پر ڈیڑھ کروڑ ڈالرز انعام مقرر کر رکھا تھا۔
میکسیکو کی وزارتِ دفاع کے مطابق یہ کارروائی ملک کی اسپیشل فورسز نے منظم منصوبہ بندی کے تحت انجام دی۔ امریکی ڈرگ انفورسمنٹ ایڈمنسٹریشن کے سابق عہدیدار مائیک ویجل نے سی بی ایس سے گفتگو میں اسے منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تاریخ کی اہم ترین کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا۔
میکسیکو میں امریکا کے سابق سفیر کرسٹوفر لینڈاؤ نے سوشل میڈیا پر ایل مینچو کو خونریز اور بے رحم ترین منشیات فروشوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ہلاکت میکسیکو، امریکا اور لاطینی امریکا کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے۔
The two biggest Mexican drug lords in the history of narcotrafficking fell on the exact same date.
— J!nz™️♠️ (@Jnz4tu) February 23, 2026
- On February 22, 2014, “El Chapo” Guzmán, leader of the Sinaloa Cartel, was captured for the second time.
- Today, February 22, 2026, “El Mencho”, leader of the CJNG, was killed… pic.twitter.com/efIjNqbDPp
تاہم ماہرین کے مطابق اگر سکیورٹی فورسز نے صورتِ حال کو جلد قابو میں نہ کیا تو کارٹیل کا پُرتشدد ردِعمل حکومتی کامیابی کو متاثر بھی کر سکتا ہے۔ ہالیسکو کارٹیل سنہ 2010 میں اپنے قیام کے بعد سے سکیورٹی فورسز اور سرکاری اہلکاروں پر حملوں کے حوالے سے بدنام رہا ہے۔
اس گروہ پر راکٹ سے چلنے والے گرینیڈ کے ذریعے فوجی ہیلی کاپٹر مار گرانے، درجنوں سرکاری اہلکاروں کو قتل کرنے اور اپنے مخالفین کو خوفزدہ کرنے کے لیے بعض اوقات لاشیں پلوں سے لٹکانے جیسے سنگین جرائم کے الزامات بھی عائد ہوتے رہے ہیں۔
یاد رہے کہ میکسیکو شمالی امریکا میں واقع ایک ملک ہے۔ جو جغرافیائی طور پر امریکا اور وسطی امریکا کے درمیان واقع ہے۔






