مادورو کی ٹانگوں میں پڑی زنجیروں کی آواز عدالت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سنائی دی۔ عدالت میں قدم رکھتے ہی انہوں نے مڑ کر سر ہلایا اور سامعین میں موجود متعدد افراد کو ہسپانوی زبان میں ’’بونوس دیاس‘‘ کہا۔

سماعت کے آغاز میں جج نے مادورو سے تصدیق کی درخواست کی کہ وہ واقعی نکولس مادورو ہیں۔ عام طور پر ایسے موقع پر ملزم مختصر جواب دیتا ہے، تاہم مادورو نے موقع غنیمت جانتے ہوئے بھرے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں جنہیں اغوا کیا گیا ہے۔

انہوں نے پرسکون ہسپانوی لہجے میں کہا کہ مجھے میرے گھر، کاراکاس، وینزویلا سے پکڑا گیا۔

اس موقع پر جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان کے لیے کوئی اور مناسب وقت اور جگہ ہوگی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق مادورو نے نیویارک کی عدالت کو بتایا کہ وہ وینزویلا کے رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بے قصور ہوں، میں قصوروار نہیں ہوں۔ میں ایک شریف آدمی ہوں اور اپنے ملک کا صدر ہوں۔ مادورو نے عدالت میں مترجم کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

وینزویلا کے معزول صدر کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی اپنے خلاف منشیات اسمگلنگ اور ہتھیاروں سے متعلق الزامات کی تردید کی ہے۔

متعدد امریکی میڈیا اداروں کے مطابق مادورو کے وکیل نے بتایا ہے کہ ان کا مؤکل فی الحال ضمانت پر رہائی کی درخواست نہیں کر رہا، تاہم بعد میں رہائی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔

سماعت کے دوران سب سے زیادہ کشیدہ لمحہ اس وقت آیا جب عدالت کے اختتام پر حاضرین میں سے ایک شخص نے مادورو پر ہسپانوی زبان میں چیخنا شروع کیا کہ وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔ اس پر مادورو نے اس شخص کی طرف رخ کرتے ہوئے جواب دیا کہ وہ ایک اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہیں۔

بعد ازاں مادورو کو ان کی اہلیہ کے پیچھے، زنجیروں میں جکڑ کر عدالت کے پچھلے دروازے سے باہر لے جایا گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق مادورو نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔

فردِ جرم میں مادورو پر چار الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں منشیات اسمگلنگ، دہشت گردی کی سازش، مشین گنز اور تباہ کن آلات کی غیر قانونی ملکیت شامل ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق کیس کی آئندہ سماعت 17 مارچ کو مقرر کی گئی ہے، جس میں جج نے مادورو کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔