مادورو کی ٹانگوں میں پڑی زنجیروں کی آواز عدالت میں داخل ہونے سے پہلے ہی سنائی دی۔ عدالت میں قدم رکھتے ہی انہوں نے مڑ کر سر ہلایا اور سامعین میں موجود متعدد افراد کو ہسپانوی زبان میں ’’بونوس دیاس‘‘ کہا۔
سماعت کے آغاز میں جج نے مادورو سے تصدیق کی درخواست کی کہ وہ واقعی نکولس مادورو ہیں۔ عام طور پر ایسے موقع پر ملزم مختصر جواب دیتا ہے، تاہم مادورو نے موقع غنیمت جانتے ہوئے بھرے ہوئے عدالت کو بتایا کہ وہ وینزویلا کے صدر ہیں جنہیں اغوا کیا گیا ہے۔
Venezuelan President Nicolás Maduro says he considers himself a “prisoner of war,” confirming that he is the president of Venezuela, and stating in his first appearance before a US court that he was captured at his home in Caracas.
— Quds News Network (@QudsNen) January 5, 2026
He adds that the United States has no political… pic.twitter.com/qjs09x0cGB
انہوں نے پرسکون ہسپانوی لہجے میں کہا کہ مجھے میرے گھر، کاراکاس، وینزویلا سے پکڑا گیا۔
اس موقع پر جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ اس بیان کے لیے کوئی اور مناسب وقت اور جگہ ہوگی۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے امریکی پارٹنر سی بی ایس نیوز کے مطابق مادورو نے نیویارک کی عدالت کو بتایا کہ وہ وینزویلا کے رہنما ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بے قصور ہوں، میں قصوروار نہیں ہوں۔ میں ایک شریف آدمی ہوں اور اپنے ملک کا صدر ہوں۔ مادورو نے عدالت میں مترجم کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔
وینزویلا کے معزول صدر کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی اپنے خلاف منشیات اسمگلنگ اور ہتھیاروں سے متعلق الزامات کی تردید کی ہے۔
متعدد امریکی میڈیا اداروں کے مطابق مادورو کے وکیل نے بتایا ہے کہ ان کا مؤکل فی الحال ضمانت پر رہائی کی درخواست نہیں کر رہا، تاہم بعد میں رہائی کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔
Venezuela s ousted leader Nicolás Maduro to make first court appearance in New York - follow livehttps://t.co/L6vf0OzNvM
— BBC Breaking News (@BBCBreaking) January 5, 2026
سماعت کے دوران سب سے زیادہ کشیدہ لمحہ اس وقت آیا جب عدالت کے اختتام پر حاضرین میں سے ایک شخص نے مادورو پر ہسپانوی زبان میں چیخنا شروع کیا کہ وہ اپنے کیے کی سزا بھگتیں گے۔ اس پر مادورو نے اس شخص کی طرف رخ کرتے ہوئے جواب دیا کہ وہ ایک اغوا شدہ صدر اور جنگی قیدی ہیں۔
بعد ازاں مادورو کو ان کی اہلیہ کے پیچھے، زنجیروں میں جکڑ کر عدالت کے پچھلے دروازے سے باہر لے جایا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق مادورو نے اپنے خلاف عائد تمام الزامات سے انکار کیا ہے۔
فردِ جرم میں مادورو پر چار الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں منشیات اسمگلنگ، دہشت گردی کی سازش، مشین گنز اور تباہ کن آلات کی غیر قانونی ملکیت شامل ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق کیس کی آئندہ سماعت 17 مارچ کو مقرر کی گئی ہے، جس میں جج نے مادورو کو دوبارہ عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔







